شمیم محمود مرحومہ کی فلاحی خدمات تحریر:طلعت سلیم ایم بی ای …برمنگھم
| |
Home Page
اتوار 29 رمضان المبارک 1438ھ 25 جون 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
شمیم محمود مرحومہ کی فلاحی خدمات تحریر:طلعت سلیم ایم بی ای …برمنگھم

Todays Print

جینے کو تو سبھی جیتے ہیں مگر جینے کا طریقہ ایک سا نہیں ہوتا، کوئی اپنے لئے جیتا ہے کوئی دوسروں کے لئے خوش قسمت ہیں وہ جو دوسروں کے لئے جیتے ہیں۔
خود اپنی آگ میں جلتی ہے شمع جلنے دو
پرائی آگ میں جلنا ہے کار مردانہ
مشہور ومعروف چیریٹی، جنت الفردوس کی بانی، مہتمم روح رواں مسز شمیم محمود جو 14 اپریل بروز جمعۃ المبارک نو بہ نو دینی، سماجی ، فلاحی خدمات سے اللہ کی مخلوق کو برسوں مستفید کرنے کے بعد کینسر جیسے موذی مرض کا صبروتحمل سے مقابلہ کرتے کرتے اگلے جہاں رخصت ہوگئیں، وہ اللہ کے انہیں نیک بندوں میں سے تھیں، درددل جو انسان کو فرشتوں سے برتر بناتا ہے وہ اللہ کی خاص دین ہے جو ہر ایک کے حصے میں نہیں آتی، شمیم کو اللہ نے اس نعمت سے نوازا اور خوب نوازا، ماں باپ کے شفیق سائے سے محروم بچوں کی زندگیاں سنوارنے کے لئے جنت الفردوس کے نام سے فلاحی تنظیم بنا کراس کے تحت زندگی کی آسائشوں، نعمتوں ضرورتوں سے آراستہ علم کا نور پھیلاتے تعلیمی ادارے بنانے کا تہیہ کرکے تن من دھن سے کیا کیا کچھ کرنے لگ گئیں، مقصد کی لگن، انتھک جدوجہد، جوش وجذبے کی سچائی سے متاثر ہوکر اللہ کے مخیر بندے اس کار خیر میں ہاتھ بٹانے لگے، اکیلی ہی جانب منزل پایہ سفر ہونے والی شمیم کی مدد کے لئے لوگ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا، جنت الفردوس، کا نام برمنگھم کی فضائوں سے نکل کر دور دور تک جاپہنچا۔ نہایت مخلص محنتی اور پرجوش رفقائے کار کا حلقہ شمیم نے بنالیا جو دل وجان سے اس کا بھرپور ساتھ دیتا رہا۔ وطن عزیز میں گلیوں میں  رلتے یتیم بچوں کے لئے تین ادارے بنائے جنہیں عرف عام میں یتیم خانہ کہا جاتا ہے جو بڑی نیک نیتی ، تندہی اور خوبصورتی سے اپنا کام سرانجام دے رہے ہیں، جہاں اپنی آنکھوں سے یتیموں کی پیار بھری سر پرستی، خوشی، تعلیمی ماحول اور ہنستے مسکراتے خوش وخرم چہرے دیکھ کر آنے والے اس تنظیم کے منعقدہ جلسوں اور مختلف تقاریب میں وہاں کا حال سنا کر سامعین کے لئے قلب وروح کی شادمانی کا سامان کرنے کے ساتھ ساتھ بڑھ چڑھ کر اس نیک کام میں حصہ لینے کا جذبہ بھی پیدا کرتے ہیں۔ شمع سے شمع جلتی ہے یوں اس کار خیر کا سلسلہ دراز ہونے پر خلق خدا کا بھلا ہورہا ہے، غریب نادار لڑکیوں کی شادی کا بندوبست کرنا، بیوائوں کی امداد، پانی کے حصول کی مشکلات دور کرنے کے لئے جمع کئے گئے عطیات سے ٹیوب ویل لگوانا، کنوئیں کھدوانا، تعلیمی ادارے قائم کرنا، قدرتی آفات، جنگ وجدل سے متاثرہ لوگوں کے لئے امداد کا سامان اکٹھا کرنا، ان سب خدمات کے لئے فنڈ ریزنگ کی مہم چلا کر چیریٹی ڈنر اور دیگر تقاریب منعقد کرکے وہ ہزاروں کا چندہ گھنٹوں میں جمع کرتی رہیں۔ یوں اس تنظیم کی اعلیٰ کارکردگی کے سبب مدد گاروں کا حلقہ وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا۔ بارہ برس قبل شمیم کے ذہن میں ابھرنے والے منصوبے نے ایک خیال ایک سوچ نے ہزاروں کم نصیبوں کی دنیا بدل ڈالی، شبانہ روز محنت کے ساتھ ساتھ شمیم کی خوش اخلاقی، محبت آمیز روئیے، چھوٹے بڑے کی پذیرائی، مسکراہٹ، اپنے رفقائے کار کو ساتھ لے کر چلنے کی روش ان صفات کا بھی اس کامیابی میں بڑا عمل دخل ہے۔ شمیم نے یوں لگتا ہے دوسروں کی بھلائی کی لگن میں اپنا آپ بھلائے رکھا، مسلسل کام، تھکن، بے آرامی کی پروا نہ کرنے والی شمیم کے جسم میں اندر ہی اندر کینسر نے جگہ بنا کر اسے نڈھال کر ڈالا، جنت الفردوس کا راستہ دکھاتے دکھاتے جواں ہمت مخلص اور نیک دل شمیم خود ان روشن راہوں کی مسافر بن گئی، اللہ اسے اپنی خاص رحمت کے سائے میں جنت الفردوس میں جگہ دے (آمین) مجھے فخر ہے کہ سبھی کو اپنی محبتوں کی بارش میں بھگونے والی شمیم نے مجھے ہمیشہ دل وجاں سے اپنی بڑی بہن سمجھا۔ شمیم کے ہاتھوں جنت الفردوس کی صورت ، خون جگر دے دے کر پالے ہوئے بوٹے کی آبیاری اس کی دیکھ بھال اب سبھی کو مل جل کر کرنا ہوگی، گھنے سایہ دار پیڑکا روپ دھارتا یہ بارہ سالہ نازک سا درخت اللہ کی کم نصیب مخلوق خصوصاً یتیم بچوں کے لئے ٹھنڈی میٹھی چھائوں مہیا کرتا انہیں زمانے کی سختیوں کی دھوپ سے بچاتا سائباں ہمیشہ شمیم کی یاد دلاتا رہے گا۔ اللہ اسے سلامت رکھے یہ سرسبز وشاداب وثمر بار رہے۔(آمین)
بارے دنیا میں رہو غمزدہ یا شاد رہو
ایسا کچھ کرکے چلو یاں کہ بہت یاد رہو



.