سعادت عمرہ اور یادیں… تحریر:قاری تصورالحق مدنی…برمنگھم
| |
Home Page
جمعۃ المبارک ، 1 شعبان 1438ھ 28 اپریل 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
سعادت عمرہ اور یادیں… تحریر:قاری تصورالحق مدنی…برمنگھم

Todays Print

مجھے صحیح طور پر تو یاد نہیں لیکن غالب گمان یہی ہے کہ میں2010یا2011میں آخری بار پاکستان گیا اور پھر اس کے بعد یہ ارادہ کیا تھا کہ جامع مسجد علیؓ اہل سنت و الجماعت برمنگھم کے جاری کام کو منزل کے قریب پہنچانے تک بیرون برطانیہ کا سفر نہیں کروں گا۔ ہاں تو اس عہد کو ایک بار ضرور توڑنا پڑا جب2013 یا2012 میں سعودی شاہی خاندان نے ایک وفد کے ہمراہ حج کی سعادت عظیم سے نوازا۔ حج کا یہ سفر بہت ہی مبارک تھا اور بندہ کے علاوہ لارڈ شیخ لندن اور سابق ممبر آف پارلیمنٹ شاہد ملک کو اس وقت کے ولی عہد اور عملی حکمران نائف بن عبدالعزیز سے منیٰ میں دنیا بھر کے وفود کے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانہ میں ملاقات بھی کروائی گئی۔ سعادتوں بھرے اس سفر حج کو میں نے قلم بند نہیں کیا حالانکہ اس سفر کی تفصیلات فائدے سے خالی نہیں تھیں۔ ولی عہد اور عملی حکمران نائف بن عبدالعزیز مرحوم سے ملاقات اور بہت ہی قریب کھانے کی دعوت میں شرکت بہرحال میرے لئے اعزاز تھا لیکن جس اعزاز کے تذکرے کو اب عوام کے سامنے رکھنے جا رہا ہوں اس کا ثانی نہیں۔ گزشتہ سال میں نے ارادہ یہ کیا تھا کہ ماہ فروری میں عمرہ کی سعادت حاصل کروں گا اور پھر پاکستان سے ہو کر واپس آئوں گا اور اس ساری سفری ترتیب کے لئے بڑی مشکل سے گھر والوں کو آمادہ کیا تھا کیونکہ بندہ (تصور الحق مدنی) 26 دسمبر2014 سے کڈنیوں کے ختم ہونے کے باعث ہفتہ میں تین دن کڈنی یونٹ میں  کڈنیوں کو واش کروانے جاتا ہے، ابھی اپنے پروگرام کے مطابق عمرہ کے مبارک سفر اور سفر پاکستان کو حتمی صورت نہیں دے پایا تھا کہ جنوری کے آخری دنوں ایک صاحب کا فون آیا جنہیں میں نہیں جانتا تھا تاہم انہوں نے خود ہی اپنا تعارف کرایا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ انہیں میرا پاسپورٹ، منجیٹس ٹیکہ کا سرٹیفکیٹ اور دو فوٹو درکار ہیں اور ان تمام کی ضرورت عمرہ کے ویزہ کے لئے ہے، میں نے مطلوبہ چیزیں تیار کرلیں مگر مذکور فرد کی طرف سے رابطہ نہ ہوا اور پھر میرے رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ میں نے پیغام ٹیکسٹ کر دیا لیکن میں نے وہ نہیں پڑھا تھا جس کا خلاصہ تھا کہ پروگرام کچھ تاخیر کا شکار ہو گیا ہے تاہم 28فروری کو دوبارہ رابطہ ہوا اور اسی شام کو کاغذات مجھ سے برادرم مظہر نے وصول کرلئے۔ حقیقت یہی ہے کہ میں نے احباب سے اس کا تذکرہ ابھی نہیں کیا تھا، 8مارچ کی شام راقم نے مولانا شعیب میرپوری کو فون کیا جو وفد کی تیاری میں رابطہ مین کا کردار ادا کر رہے تھے اور سفر کے بارے میں حتمی معلومات معلوم کیں اور یوں اتوار 12مارچ کا سفر فائنل ہوا گویا میرے پاس سفر کی تیاری کیلئے عملاً صرف ایک جمعہ کا دن باقی تھا کیونکہ جمعرات10مارچ اور ہفتہ11مارچ کے دونوں دن میرے کڈنی واش کے طے شدہ تھے۔ مشورہ سفر کے لئے یہی ہوا کہ ظہر کی نماز جامع مسجد علیؓ اہل سنت و الجماعت میں ادا کرکے گرین لین کے برادرم مظہر اقبال کے گھر پہنچا اور وہاں سے برادرم مظہر اور ان کے بھائی بابو کے ہمراہ کوئی سوا چار بجے کے قریب لندن پہنچا۔ ٹرمینل چار پر وفد کے ہمراہ جانے والے دیگر افراد اسلامک کلچر سنٹر لندن کے خطیب شیخ خلیفہ، ایسٹ لندن مسجد کے خطیب مولانا عبدالقیوم، مسجد توحید کے بانی ڈاکٹر صہیب حسن، مفتی محمد اسلم صاحب کے صاحبزادے مولانا عبدالعزیز پہلے سے موجود تھے۔ میرا اور برادرم مظہر کا پاسپورٹ انہی حضرات کے پاس تھا لہذا برادرم مظہر نے لندن ٹرمینل فور پر پہنچتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ اندر جا کر ان حضرات سے پاسپورٹ وصول کئے اور پھر ہم گاڑی سے سامان لے کر کائونٹر پر پہنچے۔ گو برادرم مظہر کو خود بھی کمر کے درد کی شکایت تھی تاہم انہوں نے پھر بھی میرا خیال رکھا۔ جب میری ملاقات مولانا عبدالعزیز صاحب سے ہوئی تو انہوں نے فون پر اپنے والد محترم مفتی محمد اسلم صاحب سے بات کروائی تو انہوں نے سلام و دعا کے بعد یہی کہا کہ انہوں نے مولانا عبدالعزیز سے کہا ہے کہ وہ میرا خیال رکھیں کیونکہ میری صحت کے حوالہ سے سبھی کو آگاہی تھی۔ امیگریشن کے مرحلہ کو طے کرنے کے بعد نماز عصر اور مغرب سے فراغت ہوئی تو جہاز میں جا پہنچے۔ عشاء کی نماز جہاز ہی میں ادا کی اور احرام وغیرہ جہاز میں باندھنے کا اہتمام کیا، سعودی وقت کے مطابق کوئی تین ساڑھے تین بجے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ائر پورٹ جدہ پہنچے۔ امیگریشن کی کارروائی کے مکمل ہوتے ہی جیسے سامان لے کر باہر نکلے تو مولانا شعیب میرپوری برادرم منصور، احمد الراجعی کے ساتھ استقبال کے لئے موجود تھے۔ سامان لے کر کار پارکنگ پہنچے تو ہم مہمانوں کو برادرم احمد الراجعی والی گاڑی میں مکہ مکرمہ لے جایا گیا جبکہ مولانا شعیب میرپوری، برادرم منصور کے ساتھ رہائش کے لئے مقرر کئے گئے ہوٹل انجم پہنچے۔ طے ہوا کہ ناشتہ کے فوری بعد عمرہ کی ادائیگی کرلی جائے، چنانچہ حسب مشورہ ہوٹل انجم کے قریب مسجد حرم کے باہر کھلی جگہ میں گلف گاڑیاں کھڑی تھیں اور ان میں سوار کرکے باب عمرہ تک لے جایا گیا اور پھر برادر منصور اور احمد الراجعی اور دیگر کے عمرہ مطاف تک رسائی ہوئی، طواف کے لئے ایک مطوف کا اہتمام تھا جس کی رہنمائی میں طواف کا عمل مکمل ہوا۔ بندہ نے طواف کی کارروائی خود سے مکمل کی تاہم صفا پر پہنچنے پر ضفا اور مروہ پر ہونے والی سعی کو وھیل چیئر کے ذریعہ انجام دیا۔ عمرہ کی تمام کارروائی میں بھی مطحف ہمراہ رہا اور پھر عمرہ کی تمام کارروائی مکمل ہونے پر بال کٹوائے اور ہوٹل آئے۔ وفد کے اراکین آرام کرنے لگے جبکہ راقم کو کڈنی واش کے لئے انتظامات کی فکر لاحق تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں مولانا شعیب میرپوری صاحب کا فون آیا کہ ہسپتال والے کہہ رہے ہیں کہ اگر منگل کو یعنی اگلے ہی روز خون کی صفائی کرانی ہے تو آج ہی سوموار کے دن ٹیسٹ دینا ہوگا اور اگر بدھ کے دن صفائی کرانی ہے تو منگل کے دن ٹیسٹ دے دیں لیکن میں نے سوموار ہی کے دن خون ٹیست کا کہا اور یہ بھی کہا کہ ٹیسٹ کے بعد طے کرلیں گے کہ کارروائی منگل کو کریں گے یا بدھ کو۔ مولانا شعیب میرپوری نے برادرم احمد الراجعی سے رابطہ کے بعد مجھے تیار رہنے کو کہا اور پھر کچھ ہی دیر میں برادرم احمد الراجعی مجھے لے کر ہسپتال پہنچے۔ ٹیسٹ کیلئے خون لے کر رپورٹ کی تیاری تک ہسپتال یا پھر کہیں اور انتظار کے لئے کہا، ہم نے فرصت کو غنیمت جانا اور قریب کی مسجد میں نماز کیلئے پہنچے اور نماز کے بعد کچھ کھانے کو لیا اور بتائے گئے وقت پر دوبارہ سے ہسپتال پہنچے اور پھر منگل کو مطلوب عمل کو سوموار کے دن ہی مکمل کرلیا اور اس طرح فارغ ہوتے ہوئے پانچ بج گئے، مجھے تو آرام کے لئے ہوٹل پہنچایا گیا جبکہ وفد کے دیگر ارکان کو حرم میں طے شدہ ملاقات کیلئے لے جایا گیا۔ وفد کے چھ ارکان تو ہم ایک ساتھ مکہ مکرمہ پہنچے تھے جبکہ تین ارکان یوسف بھائی باہلو، مشتاق اور الیاس دوسرے دن پہنچے تھے منگل14مارچ کو تین بجے کے قریب ہم طائف کے لئے روانہ ہوئے۔ رات میں ایک جگہ عصر کی نماز ادا کی اور حضرات نے حسب طلب مختلف چیزوں سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کی اور مغرب سے کچھ پہلے ایک جگہ کھانا بھی کھایا جو خاصہ لذیذ تھا۔ پھر ایک اور جگہ قہوہ سے مستفید ہوئے۔ مغرب کی نماز طائف کی سب سے بڑی مسجد میں پڑھی اور برادرم احمد الراجعی کی رہنمائی میں طائف کی سب سے بڑی حلویات کی دکان ملاحظہ کرنے بھی پہنچ گئے۔ رات گئے11بجے کے قریب طائف سے واپس مکہ مکرمہ پہنچے اور پھر آرام کرنے کا فیصلہ ہوا بدھ کی صبح طے شدہ پروگرام کے مطابق وفد کے تمام ارکان غلاف کعبہ تیار کرنے والی فیکٹری پہنچے تو فیکٹری کے تمام امور کے نگراں نے بریف کیا اور فیکٹری میں غلاف کعبہ کی تیاری کے تمام مراحل کا معائنہ کرایا، اسی فیکٹری کے پڑوس میں خانہ کعبہ کے حوالہ سے میوزیم کا مکمل مشاہدہ بھی کرایا۔ دونوں میں ہونے والے کام کو سب ہی نے پسند بھی کیا اور تحسین بھی کیا۔ کوئی12بجے کے بعد وفد کی واپسی ہوٹل کی طرف ہوئی اور بندہ پھر ہسپتال کڈنی واش کیلئے جا پہنچا۔ غالباً عصر کے بعد وفد کی کہیں اور ملاقات طے تھی جمعرات16 مارچ کو11بجے کے قریب شئون حرمین شریفین کے دفتر امام کعبہ شیخ عبدالرحمٰن السدیس سے ملاقات کیلئے وفد کو لے جایا گیا، وفد میں راقم (تصور الحق ) کے علاوہ مولانا شعیب میرپوری، شیخ خلیفہ، ڈاکٹر صہیب حسن، مولانا عبدالعزیز، برادرم مظہر اقبال، مشتاق، یوسف باہلو، الیاس، بیرسٹر فاروق، بابو خان اور عبدالقدوس شامل تھے،برادرم منصور اور احمد الراجعی کے علاوہ دفتر کے دیگر حضرات بھی موجود تھے۔ مہمان کا استقبال امام کعبہ نے فرمایا اور قہوہ اور کھجوروں سے تواضع کی، وفد کے ارکان کو تحائف دیئے اور کچھ کتب بھی پیش کیں اور عصر کی نماز سے قبل حجرا اسود کے بوسہ اور حطیم میں نوافل کیلئے اہتمام کی ہدایت عملے کے ارکان کو کی۔ پروگرام کے مطابق خصوصی سیکورٹی میں بوسہ کے لئے لے جایا گیا مگر زیادہ ہجوم اور نماز کے وقت کی وجہ سے حطیم میں نماز نفل کو ملتوی کر دیا گیا یوں جمعرات کا دورہ مکمل ہوا اور پھر جمعہ کی نماز کا انتظار ہونے لگا۔ جمعہ کی نماز حرم مکہ میں ادا کی گئی اور فوری بعد مدینہ منورہ کیلئے روانگی ہوئی وفد کے ارکان کو مکہ مکرمہ سے کوئی120کلومیٹر کے قریب سمندر کے کنارے ثول لے جایا گیا اور مچھلی سے مہمانی کی گئی۔ رات10بجے کے بعد ہی مدینہ منورہ پہنچے۔ قیام مدینہ کے دوران ہفتہ اور منگل کو مجھے کڈنی واش کے عمل سے گزرنا تھا تاہم چند ایک ملاقاتوں کے علاوہ احد، قبلتین، سبعہ مساجد اور مسجد قباء میں حاضری کی توفیق ملی، مسجد نبوی ﷺ میں قائم سیرت طیبہ اور اسماء حسنی کے نمائشی سلسلوں کو دیکھنے کو موقع ملا جبکہ منگل کی شام مغرب سے عشاء امام مسجد نبوی ﷺ ڈاکٹر صلاح محمد البدیر سے ملاقات وفد کے ہمراہ ہوئی اور اس موقع پر شیخ ایاز بھی موجود تھے۔ بدھ کو مغرب کی نماز مسجد نبوی میں ادا کی اور رات10بجے مدینہ منورہ ائر پورٹ سے واپسی ہوئی ائر پورٹ پر الوداع کیلئے برادرم احمد الراجعی اور برادرم سعود اور دیگر لوگ موجود تھے۔ مولانا عبدالعزیز بھی مدینہ منورہ میں مزید کچھ دن رکنے کی وجہ سے ائر پورٹ پر الوداع کرنے والوں میں شامل تھے۔ اللہ کے خصوصی فضل سے مسجد نبوی ﷺ میں نمازوں کے علاوہ کئی روز تک ہر صبح بارگاہ نبوی ﷺ میں حاضری کا موقع میسر آیا تاہم وفد کے ہمراہ ریاض الجنہ اور سلام کیلئے اجتماعی حاضری میں محرومی کا افسوس ہے۔ اللہ تعالیٰ حرمین شریفین کو مزید عظمتوں سے نوازے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو حاضری کی توفیق بخشے۔ آمین ہاں جو یہ عمرہ اپنا ثانی نہیں رکھتا اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس عمرہ میں ہمارے وفد کی میزبانی دنیائے اسلام کے سب سے بڑے مرکز ہدایت خانہ کعبہ کے امام شیخ عبدالرحمٰن السدیس نے خود کی اور خود ان کے وفد کے ملاقات میں یہ بتانا تھا کہ یہ پہلا وفد ہے کہ جس کی میزبانی میں نے کی ہے۔ ائر پورٹ سے ائر پورٹ تک تمام وفد کی میزبانی امام کعبہ شیخ عبدالرحمٰن السدیس دامت برکاتہم کی ہدایت پر تھی۔ مرکز ہدایت میں حاضری اور امام مرکز ہدایت کی میزبانی سے بڑھ کر ایک ایمان دار کیلئے کوئی اس سے بڑا تحفہ اور اعزاز نہیں ہوسکتا اور پھر مدینہ منورہ میں مسجد نبویؐؐ میں امام مسجد نبویؐ سے ملاقات ایک اور اعزاز ہے۔



.