Editorial Note - قرآن پاک کی لازمی تعلیم - column - 2017-04-21
| |
Home Page
ہفتہ 30؍شعبان المعظم 1438ھ 27 مئی 2017ء
ادارتی نوٹ
April 21, 2017 | 12:00 am
قرآن پاک کی لازمی تعلیم

Quran Pak Ki Laazmi Taleem

قرآن پاک ایک نسخہ کیمیا اور مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں ہر دور کے انسانوں کیلئے زندگی کے ہر پہلو سے متعلق مکمل رہنمائی موجود ہے۔ خدا کا کلام ہدایت اور نور کا منبع و سرچشمہ ہے اور اس کی اِسی اہمیت کے پیش نظر قومی اسمبلی میں قرآن کی لازمی تعلیم کا بِل کثرت رائے سے منظور کیا گیا ہے۔ یہ بِل وزیرمملکت برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت انجینئر بلیغ الرحمٰن نے پیش کیا جس پر ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے شق وار منظوری لی۔ 2013ء کے انتخابات کے بعد قائم ہونے والی اسمبلی میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بھی بل پر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے تمام اراکین متفق نظر آئے۔ اراکین اسمبلی نے نہ صرف اِس بِل کو سراہا بلکہ اِس کی بہتری کیلئے ضروری تجاویز بھی دیں۔ رکن اسمبلی نعیمہ کشور نے اسی تعلق میں یہ بھی کہا کہ توہین رسالت کے حوالے سے بھی ایک کمیٹی بنائی جائے تاکہ قانون پر عملد رآمد کیا جا سکے۔ ترقی اور جدت پسندی کے اس دور میں معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی کو روکنے کیلئے وفاق میں اس بِل کا اطلاق سرکاری اور نجی اسکولوں میں یکساں طور پر کیا جائے گا اور تمام ادارے اس پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے نیز صوبے بھی اس حوالے سے اقدام کریں گے۔ اس بِل کے تحت تمام مسلمان بچوں کو اسکولوں میں پہلی سے پانچویں جماعت تک ناظرہ قرآن مجید پڑھایا جائے گا اور چھٹی سے بارہویں جماعت تک قرآن پاک کا آسان ترجمہ پڑھایا جائے گا۔ انجینئر بلیغ الرحمٰن نے واضح کیا کہ یہ بِل اسکولوں میں پڑھنے والے صرف مسلمان بچوں کیلئے ہے۔ غیر مسلم بھی برابر کے پاکستانی ہیں، اُن کیلئے اسلامیات لازمی نہیں۔ ہماری قو می و صوبائی اسمبلی میں معاشرتی تعمیر اور ملکی ترقی کیلئے آئے دن نت نئے بل منظور ہوتے رہتے ہیں، مگر اُن پر صحیح معنوں میں عملدرآمد نہیں کیا جا سکا۔ قرآن کی لازمی تعلیم کا بِل منظور کرانے سے ہی معاملہ ختم نہیں ہو جاتا اِس بِل پر عملد رآمد کروانا بھی نہایت ضروری ہے تاکہ اپنی نئی نسل تک قرآن کا پیغام پہنچایا جا سکے اور قرآنی احکامات کے مطابق اُن کی کردار سازی کی جا سکے۔

.