Prof Syed Israr Bukhari - سر رہ گزر - column - 2017-04-21
| |
Home Page
ہفتہ 30؍شعبان المعظم 1438ھ 27 مئی 2017ء
پرو فیسر سید اسرار بخاری
April 21, 2017 | 12:00 am
سر رہ گزر

Sar E Rehguzar

فیصلے سے پہلے کا منظر
فیصلہ تو آنا تھا اور آکر رہا، لیکن فیصلے سے پہلے حکمرانوں سیاستدانوں سیاسی کارکنوں کا یہ عالم تھا کہ جیسے گھر کاکا پیدا ہونے والا ہے، ہر طرف جیسے ایک ہی صدا بلند ہورہی تھی؎
میں چھج پتاسے ونڈاں
جے میرے حق وچ ہووے فیصلہ
سیاسی قیادتوں کا سیلاب ہے، مگر قائد کے نقش قدم پر چلنے والی ایک قیادت بھی نہیں، ڈھٹے کھوہ لے جانے والے لیڈر 70سال سے عوام کو ہانک رہےہیں، ہوس اقتدار ہے جس کی طلب میں یہ قوم کے خیرخواہ ہانپ رہے ہیں۔ پاناما کیس کے فیصلے کیلئے کون ہے جو بیقرار نہیں، وزیراعظم نے کہا! میں کام کرتا رہوں گا، شہباز شریف بولے عدالتی فیصلہ اگر 20سال تو نوازشریف 40سال یاد رکھے جائیں گے، لوڈشیڈنگ کے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہئے، کیا حسین اقبالی بیان ہے، کوئی اگر گند کر جائے تو کیا نئی حکومت کو اسے صاف کرنا منع ہے؟ انصار عباسی نے تجزیاتی پیشگوئی کی نوازشریف ڈس مس ہونگے نہ پٹیشن، تحریک انصاف نے اعلان کردیا فیصلہ کچھ بھی ہو عوام کےپاس جائینگے، پریڈ گرائونڈ میں جلسہ ہوگا پاناما فیصلے کے لئے بیقراری اور پاکستانی ٹریفک میں کوئی خاص فرق تو نہیں، ہر ایک دوسرے سے پہلے گھر پہنچنا چاہتا ہے، اور یہ گھر، اقتدار منزل ہے، جس کی کوئی منزل نہیں، مہنگائی، بیروزگاری، لوڈشیڈنگ کرپشن کے خاتمے کیلئے بھی یہ شوق یہ جوش یہ خروش ہوتا تو آج کب کسی پر دوش ہوتا، مگر؎
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
فیصلہ آنا اتنا اہم نہیں جتنا عدالت عظمیٰ کا اس مقام تک پہنچنا ایک نیک شگون ہے، ہر آنکھ ہر کان سپریم کورٹ کی طرف متوجہ رہی ، یہی کیا کم ہے، بلکہ یہ تو پاکستان کے استحکام کی علامت ہے۔
٭٭٭٭٭
صدائے مریم
مریم نوازکا پیغام:نگاہیں جمی ہیں، توجہ مرکوز ہے، دل تیار ہیں کھیل شروع دنیا والو! یہ ڈائیلاگ اگرچہ مریم نواز کا تھا مگر اس پر گمان گزرتا ہے کہ جیسے لیجنڈ ہیرو ’’محمد علی‘‘ کہہ رہے ہوں دنیا والو! میرے ابا کو تنگ نہ کرو، وہ میرے ابا جان ہیں، ان کا کھاتا صاف ان کے ہاتھ صاف اور کیا ہاتھ کی صفائی دیکھنا چاہتے ہو دنیا والو، میں تمہیں دیکھ لوں گا، بہرحال؎
’’پاناما‘‘ نے کیا رنگ دکھائے
دو بجنے سے پہلے، دو بجائے
لگتا ہے مریم نواز بہت خوش تھیں، اس لئے تو کہہ رہی تھیںابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے، وہ اپنی نگاہوں اور توجہ کی بات نہیں کررہیں اپنے حریفوں کو خبردار کررہی تھیں کہ جو تم نے سوچا ہے ویسا نہیں ہونے کا، وہی ہوگا جو منظور ابا ہوگا، کتنی دعائیں کیں، کتنے ٹویٹ کئے، اور یہ آخری ٹویٹ تو سیدھا ثریا سے جا ٹکرایا، مریم نے بھی کسر باقی نہیں رکھی نوازشریف کی بے گناہی کے بینرز اٹھائے اسلام آباد کو یقین دلا رہی تھیں کہ میں بھی تو ہوں۔
وزیراعظم نوازشریف کے ریمارکس کا جواب نہیں انہوں نے کہا:عوام نے کام کرنے کے لئے منتخب کیا فیصلے سننے کیلئے نہیں، یہ ایسا بیان ہے کہ جس کی جو تشریح کی جائے کوئی مطلب برآمد نہیں ہوتا، بس اتنا سمجھ آیا کہ کام سے کام رکھو میں بھی اپنے کام سے کام رکھوں گا، چاہے فیصلہ کچھ بھی آئے مریم نواز کی دعائیں ضرور کبھی نہ کبھی رنگ لائیں گی۔
٭٭٭٭٭
آوارہ کتے اور ہوائی فائرنگ
ہم کسی پوش ایریا کی بات نہیں کرتے، لاہور میں فتح گڑھ سے لیکر ہربنس پورہ تک کی بستیوں میں شام ہوتے ہی ہوائی فائرنگ اور آوارہ کتوں کی پیٹرولنگ کا احوال سناتے ہیںکہ مجبور ہیں ہم۔ یہ جو ان غریبوں کی بستیوں میں کچھ بدمستوں کی ہر طرح کے بور سے تڑ تڑ گولیاں چلانے کی واردات ہے اس کی کچھ تحقیق تو کی جائے کہ آج گولی، کارتوس تو بہت مہنگے ہیں پھر اس بے دریغ فائرنگ سے یہ شک یقین میں بدلنے لگتا ہے کہ یہ اسلحہ یہ گولیاں کارتوس کوئی سپلائی تو نہیں کررہا، اور پولیس فورس کو معلوم ہے کہ ایسا کون کرسکتے ہیں، حیرانی ہے کہ ہربنس پورہ پولیس اسٹیشن آواز سن کر بھی نہیں کہتا آواز دے کہاں ہے رہ گئے آوارہ کتے تو فتح گڑھ، کینال بینک، کینال پوائنٹ، عامر ٹائون اور دیگر تمام بستیاں جو واہگہ تک آباد ہیں، ان میں آوارہ کتوں کے غول کے غول گشت پر ہوتے ہیں، نمازی مسجد کو جانے سے ڈرتے ہیں، مکین محلے کی دکان سے سودا سلف لینے نہیں جاسکتے اور سب سے زیادہ خطرہ چھوٹے بچوں کو ہے، کسی زمانے میں ضلعی حکومت کتے مار ٹیمیں تشکیل دیکر ان کتوں کا صفایا کردیتی تھی مگر اب وہ بھی سنتی ہے نہ دیکھتی اب کیا یہ فائرنگ اور آوارہ کتوں سے نجات کیلئے بھی ہم خادم پنجاب سے گزارش کریں، ہمارے عوام کا یہ طریق ہے کہ چپ رہو، کچھ نہ کہو اور یہی وجہ ہے کہ ان کی پیٹھ پر نہ جانے کیا کیا سوار ہے، اور وہ اف تک نہیں کرتے، یہ تو کچھ اتفاقیہ پڑھے لکھوں نے ہم سے کہا کہ کیا قلم بھی خاموش رہے گا، تھانہ اور ضلعی حکومت دونوں بہت فعال مگر اس کے باوجود ہماری بیان کردہ شکایت بھی اپنی جگہ بحال ہے۔
٭٭٭٭٭
ہنگامہ ہے کیوں برپا؟
٭زرداری:نوازشریف نے ہمارے ساتھ بہت بددیانتی کی، اب ساتھ دوں گا نہ فون اٹھائوں گا،
یہ وہی زرداری صاحب ہیں جو مفاہمت ملی بھگت کا انکار کرتے تھے مگر کاٹھ کی ہنڈیا ہے کب تک چڑھی رہ سکتی ہے۔
٭جاوید ہاشمی:پاناما کیس کا جو بھی فیصلہ آئے تحریک انصاف کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا،
ہاشمی صاحب آپ کو تحریک انصاف سے کیا فائدہ ہوا؟
٭وزیراعظم:ہمارا دامن صاف، پاناما پر ہر فیصلہ قبول ہوگا،
دامن اگر قمیص کا ہے تو اس کے اجلے ہونے میں کسی کو شک نہیں، اور پاناما پر جو فیصلہ آیا ہے وہ سب کوقبول ہوگا، یہ ایجاب و قبول تو پہلے بھی ہو چکا ہے، ویسے قبول نہ کرنے کی کسی کے پاس گنجائش بھی نہیں، ہماری دعا ہے کہ میاں صاحب سرخرو ہوں۔
٭لوڈشیڈنگ واحد قوت ہے جس کو پاناما فیصلے کی کوئی پروا نہیں،وہ زور و شور سے جاری ہے، البتہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر دسمبر میں 4600میگاواٹ کا اضافہ نہ کرسکا تو میرا گریبان پکڑ لیں،
گریبان پکڑنے کے کئی مواقع پہلے گزر چکے ہیں، اور بھی وقت آئے گا تو کون ہے جو گریبان پکڑے گا، یہ محاوراتی باتیں ہیں اور اب تو یہ روزمرہ کا معمول ہیں۔

.