Muhammad Farooq Chohan - پاک امریکہ تعلقات سے فکر اقبالؒ تک - column - 2017-04-21
| |
Home Page
بدھ 28 رجب المرجب 1438ھ 26 اپریل 2017ء
محمد فاروق چوہان
April 21, 2017 | 12:00 am
پاک امریکہ تعلقات سے فکر اقبالؒ تک

Pak Amreeka Talluqaat Se Fikr E Iqbaal Tak

پاک امریکہ تعلقات میں اتار چڑھائو آتا رہتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطح کا پہلا رابطہ قومی سلامتی کے امریکی مشیر لیفٹیننٹ جنرل ایچ آرمیک ماسٹر کی18 اپریل کو وزیراعظم نواز شریف، آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتوں کی صورت میں ہوا ہے۔ اگرچہ سابق صدر اوباما کی طرح نئی امریکن حکومت نے بھی افغانستان میں ’’ڈومور‘‘ کا پیغام دیا ہے اور پاکستان سے تمام دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاہم دوسری طرف آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے اپنی زمین کسی پراکسی کے لئے استعمال ہونے کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان خود ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے اور وہ اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں پاکستان نے دی ہیں۔ ہندوستان پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کی مسلسل حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ امریکہ اگر واقعی خطے میں امن چاہتا ہے تو اُسے بھارت کی پاکستان کے خلاف ریشہ دوانیوں کو روکنا ہو گا کیونکہ جب تک انڈیا کی منفی سرگرمیوں کو روکا نہ گیا اور اُسے مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کے لئے مجبور نہ کیا گیا اُس وقت تک جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔حکومت پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر امریکہ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم بھی کیا ہے۔ پاکستانی حکام نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے متعلق بھارتی پروپیگنڈے کا موثر جواب دینے کے لئے نئے دستاویزی ثبوت بھی تیار کر لئے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند امر ہے کہ ہماری سول اور عسکری قیادت اس معاملے میں خاصی متحرک دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بھارت کے خلاف نئے دستاویزی ثبوت بھی جلد اقوام متحدہ میں پیش کیے جائیں گے۔ ان شواہد میں کلبھوشن کے کورٹ مارشل کی تفصیلات، اعترافی بیان اور دیگر ثبوت شامل ہیں۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ ثبوت پاکستان میں موجود غیر ملکی سفیروں کو بھی پیش کیے جائیں گے۔ اب وقت آگیا ہے کہ بھارت کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے۔ پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کا معاملہ بڑا اہم اور حساس ہے اور اسے بھرپور قوت کے ساتھ ہمیں عالمی سطح پر اٹھانا ہوگا ۔ بھارتی جاسوس کے بارےمیں مزید چشم کشا حقائق سامنے آئے ہیں کہ کلبھوشن یادیو بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کا رشتہ دار ہے اس کا باپ سدھیر یادیو ممبئی پولیس کا کمشنر رہا ہے۔ 1987میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی جوائن کی اور 1991میں انڈین نیوی کا حصہ بنا۔ 13دسمبر 2001میں انڈین پارلیمنٹ پر حملے کے بعد کلبھوشن نے ’’را‘‘کو جوائن کیا۔ اجیت دوول نے کلبھوشن کو ’’بلوچستان ونگ‘‘ میں بھجوا دیا۔ آہستہ آہستہ کلبھوشن ’’پاکستان آپریشن‘‘ کا سربراہ بن گیا۔ یہ فیلڈ آپریٹر تھا۔ دنیا میں اتنا بڑا جاسوس کبھی نہیں پکڑا گیا۔ پاک فوج نے آرمی ایکٹ 1923کے تحت کلبھوشن کا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کیا اور 10ایریل کو سزائے موت سنا دی۔ اس سزا سے بھارت کی مشکلات کم نہیں بلکہ بڑھیں گی۔ معاملہ اتنا سیدھا اور آسان نہیں کہ ہندوستان کلبھوشن کے معاملے کو عالمی سطح پر اٹھا سکے۔ مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کا بیان بھارت کے لئے جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے جس میں انہوں نے کہاہے کہ وقت آگیا ہے کہ کشمیر پر امریکی ثالثی کرائی جائے۔ مودی دور حکومت واجپائی سے کئی درجے بدتر ہے۔ شرم الشیخ کے بعد پہلی مرتبہ بھارت سفارتی محاذ پر پسپائی کا شکار ہے۔ ہندوستان کا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے لانے کے لئے پاکستانی حکومت کی طرف سے حالیہ اقدامات یقیناً حوصلہ افزا ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی امریکن انتظامیہ جنوبی ایشیا میں بھارتی منفی سرگرمیوں کو روک پائے گی اور کیا امریکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مستقبل میں کوئی کردار ادا کر پائے گا؟ امر واقع یہ ہے کہ ہندوستان نے خطے کے حالات خراب کر رکھے ہیں۔ اُس کے جارحانہ عزائم سے قریبی ہمسایہ ممالک بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش اور نیپال میں بھارتی مداخلت ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔ وقت اور حالات کا ناگزیر تقاضا ہے کہ اب ہمیں ہندوستان کے جارحانہ عزائم اور بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنا ہو گا۔ افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان نے ہمیشہ اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے۔ امریکہ خود افغانستان میں بدامنی پھیلانے کاذمہ دار ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغانستان پر قبضہ کرکے جنوبی ایشیا میں پراکسی وار کا آغاز کیا تھا۔اب امریکہ پاکستان پر جھوٹا اور بے بنیاد الزام لگا رہا ہے حالانکہ پاکستان نے افغانستان میں امن کے حوالے سے ماضی میں ہونے والے ہر سطح کے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ نئی امریکن انتظامیہ کو یہ حقائق نہیں جھٹلانے چاہئیں۔ جس دن افغانستان میں امریکی اور بھارتی عمل دخل ختم ہو جائے گا، جنوبی ایشیا میں بھی امن قائم ہو جائے گا۔ اگر امریکہ واقعی مسئلہ کشمیر حل کروانے کے لئے مخلص ہے تو اسے ہندوستان پر دبائو ڈالنا چاہئے کہ وہ مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوجیں نکالے، کشمیر یوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق رائے شماری دے۔ مقام افسوس یہ ہے کہ بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی انتہا کر دی ہے۔ کشمیریوں کو گاڑیوں کے سامنے باندھ کر گشت کرنا انسانیت کی تذلیل کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت کو چاہئے کہ وہ داخلہ وخارجہ پالیسیوں کو ازسر نو تشکیل دے اور امریکی دبائو سے آزاد خارجہ پالیسی مرتب کی جائے تاکہ خطے میں امن و استحکام قائم ہو سکے۔
اب کچھ ذکر ہو جائے لاہور میں ہونے والی فکر اقبالؒ کے حوالے سے خصوصی تقریب کا! گزشتہ ہفتے قائداعظم لائبریری باغ جناح مال روڈ پر شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کے یوم وفات کی مناسبت سے ورلڈ کالمسٹ کلب کے چیئرمین حافظ شفیق الرحمان اور بزمِ اقبال کے زیر اہتمام اہم تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ میں بھی ورلڈ کالمسٹ کلب کے مرکزی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے وہاں موجود تھا۔ فکر اقبال کے حوالے سے اس تقریب میں ممتاز دانشور سجاد میر، ڈاکٹر مرتضیٰ مغل، قیوم نظامی، ڈاکٹر طاہر محمود تنولی، ابراہیم مغل، علامہ عبدالستار عاصم، خواجہ جمشید امام، ریاض احسان، منشا قاضی، فاروق تسنیم، حبیب اللہ سلفی سمیت کئی نامور قلمکار خصوصی طور پر شریک ہوئے۔ میں نے فکر اقبالؒ کے موضوع پر اظہارخیال کرتے ہوئے عرض کیا کہ علامہ اقبالؒ نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو خودی اور بیداریٔ ملت کاپیغام دیا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے 1930میں اپنے مشہور خطبہ الہ آباد کے موقع پر دو قومی نظریے کا واضح تصور پیش کیا تھا اور بعد ازاں مسلمانوں کے لئے برصغیر میں الگ وطن کے اس تصور کو قائداعظم محمد علی جناحؒ نے عملی شکل میں پیش کیا اور مملکت خداداد پاکستان معرض وجود میں آئی۔ علامہ اقبالؒ نے پیام مشرق میں جرمنی کے بلند پایہ شاعر گوئٹے کو خوبصورت اور مدلل جواب دیا ہے اور اپنی شاعری کے ذریعے نہایت حکیمانہ خیالات کا اظہار کیا ہے۔ سید جمال الدین افغانی نے بھی مسلم جمہوریہ کا تصور پیش کیا تھا ، علامہ اقبالؒ بھی اتحاد امت اور بیداریٔ ملت کا درس دیتے ہیں۔ آج بھی اگر علامہ اقبالؒ کے پیغام پر عمل کیا جائے تو امت مسلمہ دنیا بھر میں اپنا قائدانہ کردار ادا کر سکتی ہے۔

.