پاما نے ٹریکٹر انڈسٹری کیلئے نئے سال کیلئےبجٹ تجاویز جمع کرادیں
| |
Home Page
جمعۃ المبارک ، 1 شعبان 1438ھ 28 اپریل 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
پاما نے ٹریکٹر انڈسٹری کیلئے نئے سال کیلئےبجٹ تجاویز جمع کرادیں

Todays Print

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان آٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) نے حکومت کو بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے کسٹم ڈیوٹی، ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے اور ٹریکٹروں پر عائد اِن پٹ ریٹ کم کرنے کی سفارش کی ہے۔ پاما نے ٹریکٹر انڈسٹری کیلئے اپنی بجٹ تجاویز برائے سال 2017-18 جمع کرادی ہیں اور کہا ہے کہ ان مسائل کے باعث ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم ہونے کے علاوہ انڈسٹری کو مالی مشکلات بھی درپیش ہیں۔انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ نے پہلے زرعی ٹریکٹر کے ایسے پرزہ جات کی پاکستان میں بغیر کسی کسٹم ڈیوٹی کے درآمد کی اجازت دے دی تھی جو مقامی طور پر تیار نہیں کئے جاتے ہیں۔ سال 2016-17 کے بجٹ میں مزید ایک فیصد ڈیوٹی عائد کرکے اسے 2 فیصد کردیا گیا۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ ان اقدامات کی وجہ سے جنوری تا دسمبر 2016ء تک لاگت میں 33 ملین روپے لاگت کا اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے یہ تجویز دی جاتی ہے کہ مختلف ایس آر اوزکے تحت درآمد ہونے والے پرزہ جات پر کسٹم ڈیوٹی ختم کی جائے۔ پاما تجاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ درآمدی پرزہ جات کی خریداری پر عائد ان پٹ ٹیکس کم کرنے سے ٹریکٹر مینوفیکچرروں کو آئوٹ پٹ ریٹ برقرار رکھنے اور انڈسٹری کو مدد ملے گی کہ وہ 600-700 ملین روپے ریفنڈ کم کرسکے۔ ایگری کلچر ل ٹریکٹروں پر 5 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے، اس کے علاوہ درآمدی اور مقامی پرزہ جات کی خریداری پر مینوفیکچررز کے لیے 17 فیصد سیلز ٹیکس بھی عائد ہے۔ ان سارے عوامل کی وجہ سے ایف بی آر کے پاس انڈسٹری کے ریفنڈ کی مد میں رقم جمع ہوجاتی ہے اور یہ انڈسٹری کی مالی مشکلات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔