عدالتی فیصلہ اخلاقیات نہیں،قانون کی بنیادپر ہے،عاصمہ جہانگیر
| |
Home Page
بدھ 28 رجب المرجب 1438ھ 26 اپریل 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
عدالتی فیصلہ اخلاقیات نہیں،قانون کی بنیادپر ہے،عاصمہ جہانگیر

Todays Print

کراچی(ٹی وی رپورٹ)سابق صدر سپریم کورٹ بار عاصمہ جہانگیر  نے کہا کہ جے آئی ٹی کے ٹی او آرز حکومت نہیں بنائے گی بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہی بنائے جائیں گے،اکثریتی تین ججوں نے کہا کہ نواز شریف اپنی بے گناہی ثابت نہیں کرسکے اس لئے تحقیقات ضروری ہے، باقی دو ججوں نے وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کیلئے کہا، آئین دیکھیں تو 184/3 میں اس طریقے سے نااہل قرار نہیں دیا جاتاہے،عدالت نے اپنا فیصلہ ’گاڈ فادر‘ سے شروع کیا،امید ہے اگلا فیصلہ ’چارلی ولسن‘ سے شروع کیا جائے گا، ’گاڈفادر ‘ کے ساتھ مشابہت دینے سے پہلے سے رائے قائم نظر آتی ہے،ججوں کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھے،جج اپنا فیصلہ کرتے مگر اپنی رائے اتنی ابھار کر بیان کرنا کسی جج کو زیب نہیں دیتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلہ اخلاقیات پر نہیں،قانون کی بنیاد پر ہے، عدالت کہتی ہے کسی نے دائرہ اختیار کا معاملہ نہیں اٹھایا حالانکہ اپنے دائرہ  اختیار کو دیکھنا عدالت کا کام ہے، اگر 184/3کے تحت ایسی تحقیقات شروع ہوجائیں جس میں اپنی ہرچیز پیش کرنے کا حکم ہوتو ایسے بات نہیں چلے گی،نواز شریف میموگیٹ میں گئے تھے تب بھی کہا تھا ان کو بھی یہی بھگتنا پڑے گا،پاناما کیس میں جو عدالت گئے ہیں ان کو بھی یہ بھگتنا پڑے گا۔عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ عمران خان اور آصف زرداری کا وزیراعظم سے اخلاقی بنیادوں پر استعفے کا مطالبہ غیراخلاقی نہیں ہے، پیپلز پارٹی کے وزیراعظم سے بھی بہت سے لوگوں نے اخلاقی طور پر استعفیٰ مانگا تھا،عدالت کا فیصلہ بڑا حیران کن ہے،اگر بارِ ثبوت شریف خاندان پر مان لیا جائے تو پھر تین ججوں کا فیصلہ درست نہیں ہے،اس نکتہ نظر سے تو تینوں ججوں کو ثبوت پیش نہ کرنے پر نوازشریف کو سزا دینی چاہئے تھی۔انہوں نے انہیں چھوٹ کیوں دی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیونیوزکے پروگرامم’’کیپٹل ٹاک‘‘میں میزبان حامد میرسے پاناما کیس کے فیصلے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔پروگرام میں پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما  خرم دستگیراورپی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان نے بھی شرکت کی۔پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے  وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر خان  نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ وہ ہے جو تین ججوں نے لکھا،اختلافی نوٹ فیصلہ نہیں ہے، فیصلے کے آغاز میں ناول کا حوالہ دینا حیران کن ہے، شاید پہلی دفعہ تاریخ میں عدالتی فیصلے کا آغاز اختلافی نوٹ سے کیا گیا ہے، پاناما کیس کی طرح الیکشن کمیشن میں بھی تین دو سے ایک فیصلہ آیا تھا، ہم نے پاناما کیس میں عدالت کا فیصلہ قبول کرنے کا پہلے ہی کہہ دیا تھا،عدالت نے پاناما میں جو فیصلہ دیا اسی پر چلیں گے، ججوں کے اختلافی نوٹ تو قانون کے طالب علم پڑھا کریں گے۔