وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ عدالتی فیصلے کے منافی ہے،مریم اورنگزیب
| |
Home Page
ہفتہ 30؍شعبان المعظم 1438ھ 27 مئی 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ عدالتی فیصلے کے منافی ہے،مریم اورنگزیب

Todays Print

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ کےاسپیشل پروگرام میں وزیرمملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے گفتگو کرتےہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ عدالتی فیصلے کے منافی ہے،تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے کہا کہ نواز شریف مزید ساٹھ دن وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھنے کی خوشی منارہے ہیں،عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ پاناما کیس کے عدالتی فیصلے میں نواز شریف کو کلین چٹ نہیں ملی ہے، مریم اورنگز یب نے مزید کہا کہ سب کو مبارک ہو کہ وزیراعظم ایک دفعہ پھر سرخرو ہوئے ہیں، عمران خان نے عدالت کے فیصلے کو مسترد کرکے اپنی روایت کو برقرار رکھا ہے، عمران خان کی طرف سے وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ عدالتی فیصلے کے منافی ہے، سپریم کورٹ نے پٹیشنر کا وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کا مطالبہ مسترد کردیا ہے، کورٹ آرڈر کی سمری میں آرٹیکل 62/63کا ایشو ختم ہوچکا ہے،ان لوگوں نے وزیراعظم کو اس کیس سے جوڑنے کیلئے مریم نواز کو استعمال کیا جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے جے آئی ٹی کا حصہ نہیں بنایا ہے، عدالت نے مریم نواز کے فلیٹس اور کمپنیوں کے بینیفشل اونر ہونے اور مریم نواز کے وزیراعظم کے زیرکفالت ہونے کے مخالفین کے موقف کو بھی مسترد کردیا ہے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاناما کیس میں جتنی دستیاب معلومات تھیں فراہم کی گئیں، وزیراعظم نے اپریل 2016ء میں بھی کمیشن بناکر تفصیلی تحقیقات کیلئے کہا تھا، آج عدالتی فیصلہ بھی وزیراعظم کے اسی موقف کی تائید کرتا ہے، جے آئی ٹی کے سامنے جو سوالات ہیں ان کا جواب دیا جائے گا اور وزیراعظم اس میں بھی سرخرو ہوں گے، عدالتی فیصلے پر پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے ردعمل پر غور کر نے کی ضرورت ہے، دونوں جماعتوں کے ردعمل نے ایک دفعہ پھر وزیراعظم کو سرخرو کروایا ہے، عدالتی حکمنامے میں وزیراعظم کو نااہل قرار نہیں دیا گیا ہے اس لئے وزیراعظم کے مستعفی ہونے کی کوئی تجویز زیرغور نہیں ہے، وزیراعظم آج بھی وزیراعظم ہیں اور 2018ء تک وزیراعظم ہوں گے اور اس کے بعد بھی وزیراعظم رہیں گے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے خود کو، اپنے بچوں کو اور مرحوم والد تک کو احتساب کیلئے پیش کیا، وزیراعظم نے آئین اور قانون کے تحت حاصل کوئی استثنیٰ نہیں لیا کیونکہ وہ اس معاملہ کو منطقی نتیجے تک پہنچانا چاہتے تھے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق جے آئی ٹی سے مکمل معاونت کی جائے گی۔