پی ٹی آ ئی کی تقریباًہر استدعا مسترد ،دستاویز کی صحت پر سوالیہ نشان
| |
Home Page
ہفتہ 30؍شعبان المعظم 1438ھ 27 مئی 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
پی ٹی آ ئی کی تقریباًہر استدعا مسترد ،دستاویز کی صحت پر سوالیہ نشان

Todays Print

اسلام آباد (فخر درانی) سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کے اپنے فیصلے میں تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور شیخ رشید کی تقریباً   ہر ا ستدعا کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا ۔ فیصلہ تحریر کرنے والے جج جسٹس اعجاز افضل نے  پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور شیخ رشید کی طرف سے کی جانیوالی استدعا  اور اٹھائے گئے سوالات کو تفصیل کے سا تھ زیر بحث لایا ہے۔پی ٹی آ ئی  نے وزیر اعظم  کے 5اپریل 2016ء کو قوم   اور 6 اپریل 2016ء کو پارلیمنٹ میں خطاب   اور انکے بچوں کے بیانات میں تضاد    کے حوالے سے بات کی ۔اس   حوالے سے فاضل جج نے لکھا کہ مدعا علیہ نمبر1 نوازشریف نے اپنی تقریروں میں لندن فلیٹس کی ملکیت کو بھی تسلیم کیا ہے اور ان کے ذرائع کے حوالے سے بھی اشارہ دیا ہے کہ کیسے انکے خاندان نے ان کو خریدا تھا۔ تاہم  مختصر بیان میں ان کی ملکیت ماننے سے انکار کر دیا۔ انکے بیٹے مدعا علیہ نمبر7 نے اپنے مختصر بیان میں ان فلیٹس کی ملکیت کو تسلیم کرنے کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے فیصلے میں لکھا کہ مدعیان کی جانب سے بڑی تعداد میں غیر مصدقہ کاغذات عدالت میں   پیش کئےگئے    اور اس صورتحال میں ان کاغذات کی صحت پر سوالیہ نشان اٹھانے میں ہمیں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔ غیر متنازعہ شواہد کی غیر موجودگی میں عدالت آئین کے آرٹیکل 183 (3) کی رو سے فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ پی ٹی آئی  اور دوسری جماعتوں کی دوسری استدعا  یہ تھی کہ وزیراعظم نے  برٹش ورجن آئی لینڈ کمپنیوں کے ذریعے رقم  بنائی   اور منی لانڈرنگ کی -  لندن میں چار فلیٹس   اپنے بچوں  کے نام پر خریدے گئے جو اس وقت کوئی ذریعہ آمدن نہ رکھتے تھے اور وہ اپنے ٹیکس گوشواروں میں اپنے اثاثے ظاہر کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔