ایف بی آر کے کردار پر مایوسی کے اظہار پر مجبور ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن
| |
Home Page
ہفتہ 30؍شعبان المعظم 1438ھ 27 مئی 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
ایف بی آر کے کردار پر مایوسی کے اظہار پر مجبور ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن

Todays Print

کراچی(نیوز ڈیسک)پاناما کیس کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے نوٹ میں لکھا ہے کہ ایف بی آر کے کردار پر مایو سی کے اظہار پر مجبورہیں،مجھے اپنے فاضل برادران جسٹس اعجاز افضل خان اورجسٹس شیخ عظمت سعید کے عالمانہ فیصلے کا بغور مطالعے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ میں ان کے اخذ کردہ نتائج سے اتفاق کرتا ہوں۔ تاہم اس معاملے میں اٹھائے گئے مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر میں نے اپنی رائے ریکارڈ کی ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے1973  کے آئین کی دفعہ 184(3) کے تحت دائر کی گئی ان درخواستوں کے ذریعے درخواست گزار وں نے اس عدالت سے استدعا کی ہے کہ منجملہ اور چیزوں کے مدعا علیہان نمبر ایک، 9 اور 10 کو قومی اسمبلی کی رکنیت کے لئے نااہل قرار دیا جائے۔ مدعا علیہان نمبر 2،3،4 اور 5 کے بارے میں یہ ہدایت بھی طلب کی گئی ہے کہ وہ مدعا علیہان نمبر 1،9 اور 10 کی جانب سے منی لانڈرنگ اور اپنے معلوم ذرائع سے زائد اثاثے رکھنے کے الزامات میں ملوث ہونے کے حوالے سے اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کریں۔پاناما کی ایک قانونی فرم موساک فونسیکا کے ڈیٹا بیس سے برآمد ہونے والی دستاویزات کی بنیاد پر پبلک ڈومین سے آنے والی معلومات سے الزاما ت لگائے گئے۔الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ مدعا علیہ نمبر ایک جو پاکستان کے وزیراعظم ہیں اور ان کے اہل خانہ مدعا علیہان نمبر 6،7،8 یعنی مریم صفدر، حسین نواز شریف اور حسن نواز شریف مختلف آف شور کمپنیوں بشمول نیسکول لمیٹیڈ اور نیلسن انٹرپرائزز لمیٹیڈ کے مالک ہیں۔یہ کمپنیاں برٹش ورجن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ہیں اور لندن میں چار رہائشی فلیٹوں 16، 16A ، 17، 17A، ایون فیلڈ ہاؤس نمبر 118 پارک لین لندن کی ملکیت کے لئے بنائی گئی ہیں۔یہ بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ جن جائیدادوں کے بارے میں بات ہورہی ہے بظاہر مدعا علیہ نمبر 6 کی ملکیت ہیں اور مزید یہ کہ دیگر کاروبار جو مدعا علیہ نمبر 6 چلا رہے ہیں وہ حقیقت میں یہ مدعا علیہ نمبر 1 کی ملکیت ہیں۔یہ کاروبار اور اثاثے جب شروع یا حاصل کیے گئے تو مدعا علیہ نمبر 6 اور 7 کی عمریں 20 کے پیٹے میں تھیں اور ان کی آمدنی کا کوئی آزادانہ ذریعہ نہیں تھا۔ مدعا علیہ نمبر 6 مدعا علیہ نمبر ایک کی صاحبزادی ہیںاور ان کے زیر کفالت ہیں ار یہ بات 2011 کے دولت ٹیکس ریٹرن میں بھی بتائی گئی ہے۔ تاہم مدعا علیہ نمبر ایک اپنے قومی اسمبلی کے انتخاب کے لئے اور عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 کے تحت اپنے اثاثوں کے گوشوارے میں اپنی زیر کفالت بیٹی کے اثاثے ظاہر کرنے میں ناکام رہے۔حقائق کا اس طرح چھپایا جانا ، وثوق سے کہا جاتا ہے کہ اگر عوامی نمائندگی کے ایکٹ اور آئین کی دفعہ 62 کو ملا کر پڑھا جائے تو لازمی طور پر ان کی نااہلی کا باعث بننا چاہیے۔مزید براں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ مدعا علیہ نمبر1 ٹیکس چوری میں ملوث ہیں اور مدعا علیہ نمبر 7 اس رقم پرٹیکس دینے یا اسے ڈکلیئر کرنے میں ناکام رہے جو انہیں زرمبادلہ کی صورت میں بطور تحفہ رقم ملی تھی۔ان آئینی درخواستوں میں مدعا علیہان کے حوالے سے چیئرمین ایف بی آر نے نشاندہی کی کہ مدعا علیہان نمبر 7 اور 8 پاکستان میں نہیں رہتے لہٰذا وہ پاکستان کے ٹیکس حکام کے دائرے میں نہیں آتے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ مذکورہ افراد کو نوٹس جاری کردیا گیا ہے، انہوں نے اپنے جوابات 21 نومبر 2016 کو دیے جس میں ان کی جانب سے یہ پوزیشن اختیار کی گئی کہ چونکہ وہ نان ریزیڈنٹ پاکستانی ہیں لہذا وہ پاکستان سے باہر ہونے والی آمدنی پر ٹیکس دینے کے یا ریٹرن فائل کرنے کے پابند نہیں ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر کو سننے کے بعد کہ جس انداز میں ملک کا پریمئر ٹیکس ادارہ اس معاملے سے نبردآزما ہوا ہے ہم اپنے عدم اطمینان اور انتہائی مایوسی کے اظہار پر مجبور ہیں ۔اوپر جو کچھ بیان ہوا ہے اس کے باوجود کہانی کو یہ کہہ کر طول دیا گیا کہ میاں محمد شریف مرحوم یا تو بظاہر بھول گئے یا دانستہ انہوں نے فنڈز کو 20 برس تک یوں ہی پڑا رہنے دیا۔ اس عرصے کے دوران بظاہر فنڈز انتہائی تیز رفتاری سے بڑھتے رہے۔ تاہم 2001 سے 2004 کے دوران مختلف رقوم جو 42 لاکھ 7 ہزار 925 امریکی ڈالر تھی اور جو مبینہ طور پر 12 ملین درہم کی ابتدائی سرمایہ کاری پر ملنے والا منافع تھی مبینہ طور پر مدعا علیہ نمبر 8 کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی تاکہ وہ برطانیہ میں اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔ ایک اور رقم جو 54 لاکھ 10 ہزار امریکی ڈالر ہے، اس کے بارے میں دعوی کیا جاتا ہے کہ وہ مدعا علیہ نمبر 7 کو دی گئی تا کہ وہ جدہ، سعودی عرب میں اپنا کاروبار (عزیزیہ اسٹیل مل)کر سکیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں کوئی دستاویز، بنک سے لین دین کا ریکارڈ یا رقم کی منتقلی کی قابل تصدیق چیز موجود نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہوسکے کہ مذکورہ فنڈز جو مختلف اوقات میں برطانیہ اور سعودی عرب پہنچے، قطر سے آئے تھے اور اس مبینہ رقم کا حصہ تھے جو الثانی خاندان کو مبینہ طور پر میاں محمد شریف مرحوم کی ابتدائی 12 ملین درہم کی سرمایہ کاری پر انہیں دیے جانے تھے۔ ریکارڈ سے البتہ یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ مدعا علیہ نمبر 8 جو 1999 تک ایک طالب علم تھے اور (اپنے اعتراف کے مطابق جس کی تردید کی گئی نہ لاتعلقی ظاہر کی گئی) ہرگزبھی کچھ کما نہیں رہے تھے اور اچانک سرمایہ کاری کی کمپنی قائم کرنے کے قابل ہوگئے اور ان کے پاس نصف ملین برطانوی پاؤنڈ آگئے تاکہ وہ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار شروع کر سکیں اور بعد میں انہوں نے اپنے کاروبار کو توسیع دینے اور چلانے کے لئے کئی کمپنیاں رجسٹر کرائی اور چلائیں۔ ان کاروبارکے لئے جو رقم مل رہی تھی اس کے ذرائع نامعلوم اور ناقابل تصدیق تھے، جس کی ہمیں کوئی وضاحت پیش نہیں کی گئی اور انہیں ایک عوامی عہدہ رکھنے والے فرد کے بیٹوں نے استعمال کیا جو تین مختلف مواقعوں پر پاکستان کے وزیراعظم بھی رہے ہیں۔ ان سوالات کا بنیادی جواب دینے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی گئی، یہ خیال کرتے ہوئے کہ الزامات مدعا علیہ نمبر 1 کی جانب نشاندہی کر رہے ہیں جو پاکستان کے موجودہ وزیراعظم ہیں اور 1985 سے عوامی عہدوں پر فائز ہیں۔مدعا علیہان نمبر 7 اور 8 کی جانب سے (بلا ثبوت)یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ مرحوم میاں محمد شریف نے الثانی خاندان کو یہ ہدایت کی تھی کہ ان کی سرمایہ کاری کامنافع ان کے سب سے بڑے پوتے یعنی حسین نواز (مدعا علیہ نمبر 7)کا ہوگا۔ میاں محمد شریف اکتوبر 2004 میں انتقال کر گئے تھے جبکہ یہ دعوی 2006 میں کیا گیا۔ اس مرحلے پر یہ نشاندہی بہت اہمیت کی حامل ہے کہ مدعا علیہان نے تسلیم کیا ہے کہ وہ مے فیئر کی جائیداد 1993/96 سے استعمال کر رہے تھے اور یہ ان کے قبضے میں تھی۔ یہ وہی وقت ہے جب یہ جائیدادیں دو آف شور کمپنیوں سے حاصل کی گئیں۔ یہ کمپنیاں برٹش ورجن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ تھیں۔ تاہم یہ دعوی کیا گیا کہ الثانی خاندان ان کمپنیوں اور مے فیئر پراپرٹیز کا مالک تھا۔ الثانی خاندان نے میاں محمد شریف مرحوم سے اپنے تعلقات کی بنا پر مدعا علیہ نمبر سات اور آٹھ کو مذکورہ جائیدادوں کو اس وقت استعمال کرنے کی اجازت دی تھی جب وہ لندن میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ یہ سوالات پوچھنے کے باوجود اس بات کی وضاحت کی کوئی کوشش نہیں کی گئی کہ دو نوجوانوں کو، جو لندن میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، چار بڑے فلیٹوں میں رہنے کی کیا ضرورت تھی۔