جسٹس آصف سعید کھوسہ کا اختلافی نوٹ بنچ کے اکثریتی اراکین پر بھاری
| |
Home Page
جمعۃ المبارک ، 1 شعبان 1438ھ 28 اپریل 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
جسٹس آصف سعید کھوسہ کا اختلافی نوٹ بنچ کے اکثریتی اراکین پر بھاری

Todays Print

اسلام آباد (عمر چیمہ) اگرچہ جسٹس آصف سعید کھوسہ پاناما کیس کے 5رکنی بنچ میں اقلیت کی آواز بن کر سامنے آئے ہیں تاہم وزیراعظم نواز شریف سے متعلق ان کےاختلافی نوٹ کی گونج بنچ کے اکثریتی اراکین کے مقابلے میں زیادہ بلند سنائی دیتی رہے گی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے معروف ناول ’گاڈ فادر‘ سے ایک اقتباس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ہر بڑی دولت کے پیچھے ایک جرم ہوتا ہے‘‘۔ انہوں نے لکھا ہے کہ کس طرح شریف فیملی کا کوئی احتساب  نہ ہوا جیسا کہ ان کی اپنی  نگرانی میں ان کے خلاف بنائے گئے مقدمات میں انہیں ایک ایک کر کے بری کر دیا گیا۔ ایف آئی اے اور نیب کی طرف سے بنائے گئے متعدد مقدمات کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسپانڈنٹ نمبر 1یعنی نواز شریف کے ساتھ بھی معاملہ کوئی نیا نہیں ہے۔ ان درخواستوں کی سماعت 5رکنی بنچ نے کی جس کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کی۔ انہوں نے لکھا ہے کہ  سپریم کورٹ نے یہ معاملہ اس وقت لیا جب شریف فیملی کے زیراثر ادارے اپنے فرائض کی بجاآوری میں ناکام ہوگئے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ہمارے سامنے دلائل دیتےہوئے کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت عدالت  اپنے اختیار سماعت کو بروئے کار لاتے ہوئے ہدایات جاری کرے اور منتخب نمائندوں کو نااہل قرار دینے کے معاملات سے متعلق اپنے اختیارات کا استعمال کرے مگر اس سے خطرناک عدالتی نظیر قائم ہوجائےگی اس لئے عدالت ایک پرخطر گلی کا دروازہ نہیں کھولنا چاہتی۔ جسٹس کھوسہ نے لکھا ہے کہ یہ دلیل تاہم اس حقیقت کو نظرانداز کر رہی ہے کہ (جیسا کہ پہلے بھی کہا جا چکا ہے) عدالت  کے سامنے یہ درخواستیں اس وقت آئیں جب ملک کے متعلقہ ادارے مثلاً نیب، ایف آئی اے، سٹیٹ بینک آف پاکستان، ایف بی آر، ایس ای سی پی اور سپیکر قومی اسمبلی معاملے کی تحقیقات میں بدقسمتی سے ناکام ہوگئے یاریسپانڈنٹ نمبر 1کے خلاف معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو نہ بھیجا جا سکا۔محاورتاً کہا جاتا ہے کہ ایسی کوئی غلطی نہیں جس کا کوئی حل نہ ہو۔ بدقسمتی سے یہی وہ تناظر ہے جب عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے لکھا ہے کہ ’’اگر عدالت  یہ کہہ  کر معاملے کی سماعت سے انکار کر دیتی کہ اگر ایک طاقتور اور تجربہ کار وزیراعظم/چیف ایگزیکٹو اپنے وفاداروں کو متعلقہ اداروں کے سربراہان نامزد کرے جو معاملے کی تحقیقات کریں یا وزیراعظم کے خلاف کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کریں تو پھر یہ وفادار عملی طور پر وزیراعظم/  وفاق کےچیف ایگزیکٹو کو احتساب سے بری کر دیتے۔