وزیراعظم کو تحقیقات سے گزرنے دیں،آئین توڑ مروڑ نہیں سکتے، جسٹس افضل
| |
Home Page
جمعۃ المبارک ، 1 شعبان 1438ھ 28 اپریل 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
وزیراعظم کو تحقیقات سے گزرنے دیں،آئین توڑ مروڑ نہیں سکتے، جسٹس افضل

Todays Print

کراچی (نیوز ڈیسک)سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے سینئر رکن جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا ہے کہ پانا ما کیس کے فیصلے میں لکھا ہے کہ احتساب عدالت کی مکمل تحقیقات کے بغیر کسی کو نااہل قرار نہیں دے سکتے اور نہ کسی کو صادق اور امین ہونے کے خلاف فیصلہ دے سکتے ہیں، وزیراعظم کو تحقیقات سے گزرنے دیں،آئین توڑ مروڑ نہیں سکتے، انہیں اپیل کا حق بھی دیا جائے، عدالت کسی سے امتیازی سلوک نہیں  کرسکتی ہے، عدالتیں حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں اور نوازشریف وہی کرسکتے تھے جو قانون کے مطابق تھا۔ آئینی پٹیشن نمبر 29 برائے 2016 میں مدعا علیہان نمبر ایک، 9 اور 10 کی نااہلی کی درخواست کی گئی کہ منی لانڈرنگ کردہ رقم، برٹش ورجن آئی لینڈز کمپنیز اور دیگر محفوظ مقامات کی کمپنیوں کے ذریعے خریدی گئی جائیدادوں کو واپس لایا جائے، مدعا علیہان نمبر 2 کے خلاف حکم کا اجرا ہو کہ وہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی سیکشن 9 اور 18 کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور بڑے کرپشن کیسز میں تحقیقات کرکے انہیں منطقی انجام تک پہنچائے۔ نواز شریف اور پاناما لیکس میں سامنے آنے والے ان کے گھر والوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے، مذکورہ جائیدادوں کی واپسی کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے دعویٰ دائر کرنے کے لیے حکم کا اجرا کیا جائے، اور چیرمین ایف بی آر کو حکم جاری کیا جائے کہ وہ مدعا علیہ نمبر ایک اور ان کے اہل خانہ کے ٹیکس گوشواروں اور ظاہر کردہ اثاثوں کا جائزہ لیں۔2۔ مدعی کا کیس یہ ہے کہ مدعا علیہ نمبر ایک نے 5-4-2016 کو قوم سے اور 16-5-2016 کو پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں غلط بیانی کی، جن میں نہ صرف آپس میں تضاد ہے بلکہ وہ ان کے بیٹوں مدعا علیہان نمبر 7 اور 8 کے بیانات سے بھی متضاد ہیں، کہ انہوں نے اپنے اہل خانہ کے اثاثوں کی وضاحت کی کوشش کی لیکن یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے دبئی میں کیا سرمایہ کاری اور کیا کمایا۔ دبئی میں گلف اسٹیل مل میں 75 فیصد شیئر کی فروخت کا سہہ فریقی معاہدہ ریکارڈ پر لایا گیا لیکن مذکورہ معاہدے کو دیکھنے سے پتہ چلے گا کہ سیل سے انہیں کوئی نقد رقم حاصل نہیں ہوئی۔ اس کی 21 ملین درہم کی آمدنی سے بی سی سی آئی بینک کا قرض اتارا گیا۔ پھر باقی 25 فیصد شیئرز بھی اسے گاہک کو بیچے گئے لیکن اس کی آمدنی 12 ملین درہم تک کیسے بڑھ گئی اس بارے میں یقین سے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا، ذرائع سے قطع نظر یہ پیسہ کیسے جدہ، قطر اور برطانیہ پہنچا، اس بارے میں بھی کسی کو کچھ نہیں معلوم۔ پھر یہ کہ مدعا علیہ نمبر 7 نے خود کو 2006 میں ایون فیلڈ ہاؤس پارک لین لندن میں فلیٹس نمبر 16, 16-A, 17  اور 17A کا مالک ظاہر کیا لیکن التوفیق کمپنی برائے انوسٹمنٹ فنڈ لمیٹڈ بمقابلہ حدیبیہ پیپر ملز لمیٹڈ و دیگر تین کے کیس میں ہائی کورٹ جسٹس کوئنز بنچ ڈویژن کے حکم کے مطابق مدعا علیہان نمبر 2، 3 اور 4 کے مذکورہ اثاثوں میں مفادات موجود تھے۔ یہ کہ چیرمین ایف بی آر کی مدد سے مدعا علیہان نمبر ایک نے اپنے بیٹے مدعا علیہ نمبر 7 حسین نواز کی جانب سے بطور تحفہ دی گئی رقم پر مسلسل کوئی انکم ٹیکس ادا نہ کیا۔ یہ کہ مدعا علیہ نمبر 6 کا اپنے انٹرویو میں اعتراف کہ وہ ہنوز اپنے والد کی زیر کفالت ہیں اور یہ حقیقت کہ ان کے شوہر کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں اور نہ ہی وہ کوئی ٹیکس ادا کرتا ہے، اس سے اس بات میں کوئی شک نہ رہا کہ وہ تمام قانونی اور عملی پہلوؤں سے مدعا علیہ نمبر ایک کی زیر کفالت ہیں۔ یہ کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے برٹش ورجن آئی لینڈز مسٹر ایرل جارج اور موساک فونسیکا کمپنی کے درمیان خط و کتابت سے پتہ چلتا ہے کہ مدعا علیہ نمبر 6 لندن میں فلیٹس کی مالک ہے۔ یہ کہ جب بات ثابت ہوگئی کہ مدعا علیہ نمبر 6 مدعا علیہ نمبر ایک کی زیر کفالت ہیں، اور ڈائریکٹر ایف آئی اے برٹش ورجن آئی لینڈز مسٹر ایرل جارج اور موساک فونسیکا کمپنی کے درمیان خط و کتابت سے پتہ چل گیا کہ مدعا علیہ نمبر 6 فلیٹس کا مالک ہے، تو پھر مدعا علیہ نمبر ایک کا فرض تھا کہ اپنے ٹیکس گوشواروں میں اپنے اثاثے ظاہر کرتا اور ایسا نہ کرنے پر وہ آئین کے آرٹیکل 62(1)(f) اور 63(1)(o)  کے تحت نااہل ہوسکتا ہے۔ پھر یہ کہ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ مدعا علیہ نمبر 6 کروڑوں کے فلیٹس کی مالک ہونے کی حیثیت سے مدعا علیہ نمبر ایک کے زیر کفالت قرار نہیں دیا جاسکتا، لیکن موخر الذکر ان فلیٹس کی ملکیت سے ہاتھ جھاڑ کر بری الذمہ نہیں ہوسکتا، کیونکہ  1993-1994 میں مدعا علیہ نمبر 6 کے پاس انہیں خریدنے کے کوئی وسائل نہ تھے۔ یہ اب بھی اثاثوں کو چھپانے کا کیس ہے جس کی وجہ سے آئین کے تحت مدعا علیہ نمبر ایک نااہل ہوسکتے ہیں۔ آخر کس طرح شریف خاندان نے جدہ میں عزیزیہ اسٹیل مل لگائی۔ اس کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا۔ یہ مل کب تک کام کرتی رہی اور کب شریف فیملی نے اسے بیچا۔ یہ وہ سوالات ہیں جو پردے میں لپٹے ہوئے ہیں اور دو جمع دو چار کی طرح واضح نہیں۔ اور کس طرح اس کی سیل سے ملنے والا پیسہ کسی بینک کے بیچ میں آئے بغیر برطانیہ پہنچا۔ یہ بھی کہانی کا تاریک سرا ہے۔ جس کی مدعا علیہان ایک، سات اور 8 نے کوئی وضاحت نہیں کی۔ یہ کہ مدعا علیہ نمبر7 کی جانب سے مدعا علیہ نمبر ایک کو لاکھوں کے تحفوں پر بھی سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ ان کے ذرائع کی قانونی حیثیت کیا ہے اور مدعا علیہ نمبر ایک پر ٹیکس ادائیگی عائد ہوتی ہے، قطع نظر اس کے یہ رقم بینک ذرائع سے منتقل کی گئی۔ یہ کہ سال 2011-2012  کے لیے مدعا علیہ نمبر 6 کے ٹیکس اور ویلتھ ٹیکس گوشواروں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ 6 کمپنیوں میں شیئر ہولڈر ہیں، حالانکہ ان کی خریداری کے لیے انہوں نے اپنے ذرائع نہیں بتائے۔ مدعا علیہ نمبر 6 نے سفر اور ایک قیمتی گاڑی پر کیے گئے اخراجات کا حساب نہیں دیا۔ یہ کہ مدعا علیہ نمبر 6 کا کبھی یہ موقف نہ رہا نہ ہوسکتا ہے کہ ان کے شوہر ان کی ضرورت پوری کرتے ہیں، کیونکہ انہوں نے 2013 سے پہلے تک کوئی ٹیکس نہیں دیا۔ جب ان کے شاہانہ اخراجات کی کوئی وضاحت نہیں ملتی تو اس سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ بھی مدعا علیہ نمبر ایک کی زیر کفالت ہیں۔ یہ کہ برٹش ورجن آئی لینڈ میں آف شور کمپنیاں بنانے کا مقصد لوٹ مار کی کمائی اور منی لانڈرنگ کو چھپانے کے سوا کچھ نہ تھا جو سنگین ترین جرم ہے۔ اور ایسی سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کے پاس وزیراعظم رہنے کا کوئی حق نہیں۔ ٹرسٹ ڈیڈ بتائی جانے والی دستاویز مدعا علیہ نمبر 7 کو فائدہ اٹھانے والا اور  مدعا علیہ نمبر 6  کو ٹرسٹی ظاہر کرتی ہے، جو مدعا علیہ نمبر ایک کی گھڑی گئی کہانی میں فٹ نہیں ہوتی جب اسے ہائی کورٹ جسٹس کوئنز بنچ ڈویژن کے احکامات کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے۔ یہ کہ مدعا علیہان 6، 7 اور 8 دراصل 1993 میں خریدے گئے فلیٹوں کی ملکیت کا دعویٰ نہیں کرسکتے جب وہ 20،21 اور 17 کے سال تھے اور ان کوئی آزاد ذریعہ آمدن نہ تھے۔ مدعا علیہ 8 نے نومبر 1999 میں ٹم سباستیان کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرسٹ ڈیٹ میں گھڑی گئی کہانی کی تردید کی۔ یہ کہ کوئی چیز بھی جدہ اسٹیل کے قیام، فروخت اور اس کی آمدنی کی 2005 میں برطانیہ منتقلی کو واضح نہیں کرتی، جب کسی بھی واقعے کا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ملا۔ یہ کہ بطور ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے عبدالرحمن ملک نے اس وقت کے صدر پاکستان کو رپورٹ جمع کرائی جو تفصیلات سے بھری پڑی ہے کہ کس طرح شریف خاندان نے منی لانڈرنگ کی۔ کس طرح جعلی ناموں سے فارن کرنسی اکاؤنٹس کھلوائے تاکہ سیاہ دھن کو سفید کیا جاسکے۔ اور برٹش ورجن آئی لینڈز اور جرسی آئی لینڈ میں آف شور کمپنیاں بنانے کا کیا مقصد تھا۔ مدعا علیہ 10 اسحاق ڈار کا اعترافی بیان بھی ایک اور گواہی ہے جس میں شریف خاندان کی منی لانڈرنگ کی تفصیلات ہیں۔ یہ کہ لاہور ہائی کورٹ نے مدعا علیہان نمبر ایک اور دس کے کیس کو کمزور اور غیر حقیقی بنیادوں پر ختم کیا تھا۔ یہ کہ مدعا علیہ دو کو پتہ تھا کہ یہ کیس کمزور اور غیر حقیقی بنیادوں پر ختم کیا گیا ہے۔ اس لیے اس نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کی اور قانون کے تحت متقاضی اقدام کرنے میں ناکام رہے۔ یہ کہ فلیگ شپ انوسٹمنٹ لمیٹڈ کو دیا گیا ورکنگ کییپٹل فنڈ کہاں سے آیا جس کو 31 مارچ 2002 کو ختم ہونے والے عرصے کے لیے اس کے مالی گوشوارے میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کی مدعا علیہ ایک اور 8 نے کبھی وضاحت نہیں کی۔ 16۔ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا مدعا علیہ ایک یا اس کے زیر کفالت افراد یا بے نامی دار ایسے اثاثوں یا مالی وسائل کے مالک ہیں جو ان کی معروف آمدنی سے مناسبت نہیں رکھتے؟۔ مدعیوں کے فاضل وکلا نے ہمیں اس کے اثبات میں متعدد دستاویزات دکھائیں جن میں دبئی میں گلف اسٹیل مل کا قیام، فروخت، جدہ میں عزیزیہ اسٹیل کا قیام و فروخت، اور برٹش ورجن آئی لینڈز میں نیسکول لمیٹڈ و نیلسن انٹرپرائز کے قیام کی تفصیلات ظاہر کرتی ہیں۔ ان کمپنیوں کی آڑ میں مدعا علیہ ایک نے مبینہ طور پر لندن میں ایون فیلڈ ہاؤس پارک لین کے علاقے میں فلیٹس  16, 16-A, 17 اور 17-A  خریدے۔