وزیراعظم سچ بتانے میں ناکام رہے ، جسٹس کھوسہ کا اختلافی نوٹ
| |
Home Page
اتوار 29 رمضان المبارک 1438ھ 25 جون 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
وزیراعظم سچ بتانے میں ناکام رہے ، جسٹس کھوسہ کا اختلافی نوٹ

Todays Print

کراچی (نیوز ڈیسک) پاناما کیس کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ وزیراعظم نواز شریف سچ بتانے میں ناکام رہے ، الیکشن کمیشن وزیراعظم کی نااہلی کے احکامات جاری رہے ، نیب اسحاق ڈار کیخلاف کارروائی کرے ، رحمٰن ملک کا تیار کردہ مواد بروئے کار لایا جائے ۔ انہوں نے لکھا کہ 86 : میسرز نیسکول کے حوالے سے منسلک 2016ء کے سی ایم اے نمبر 7531کے ساتھ دستاویزات میں انکشاف کیا گیا کہ اس کا قیام 27 جنوری 1993ء میں عمل میں آیا جیساکہ رجسٹرار کمپنیز بی وی آئی کے جاری کردہ اس کے قیام کے سرٹیفکیٹ سے ظاہر ہے۔ 29 اپریل 1993ء میں نمبر۔ ایک کا حامل ایک بیئرر شیئر سرٹیفکیٹ جاری ہوا جسے 4 جولائی 2006ء کو منسوخ کر دیا گیا۔ نمبر۔ 0002 کا حامل ایک شیئر سرٹیفکیٹ 4 جولائی 2006ء اور نمبر۔ 0003 سرٹیفکیٹ میسرز مزوا سروسز کو 9 جون 2014ء کو جاری ہوا۔ اسی طرح دو عام شیئر سرٹیفکیٹ نمبر۔ 4 ٹرسٹی سروسز کارپوریشن کے نام سے جاری ہوئے۔78 : مدعا علیہان نے جو بیانیہ پیش کیا وہ بعد کے پیرا گرافس میں جو کچھ کہا گیا اس کے پیش نظر پراعتماد نظر نہیں آتا۔ اس کا مختلف اوقات میں جوابی بیانیہ بھی سامنے آیا۔ اسی کی بنیاد پر فوجداری کارروائی شروع ہوئی۔ اول 1994ء میں جب دو ایف آئی آرز درج ہوئیں جو 27 مئی 1997ء کو جاری فیصلے میں نمٹا کر ملزم کو 1992ء کے اقتصادی اصلاحات آرڈر کی بنیاد پر بری کر دیا گیا۔ بعد میں ریفرنس نمبر۔ 2000/5 کے ذریعہ نیب آرڈیننس کے تحت کارروائی شروع کی گئی۔ تاہم یہ ریفرنس بھی یہ کہہ کر مدعا علیہ نمبر۔ ایک اور اس کا خاندان پاکستان میں نہیں ہے اور زیر سوال اثاثوں کے لئے ذرائع فنڈز کی وضاحت کا کوئی موقع نہیں، ریفرنس کو نمٹا دیا گیا۔ جس میں چار فلیٹس شامل تھے۔ اس معاملے میں اتفاق رائے کے حامل لاہور ہائیکورٹ کے دو جج صاحبان نے نیب کو دستیاب مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں ایک دوسرے سے اختلاف کیا۔ ایک کے مطابق مستقبل میں تحقیقات ہو سکتی ہیں جبکہ دوسرے کا مؤقف تھا کہ معاملہ ختم ہوگیا۔ پھر کیس تیسرے جج کے حوالے کر دیا گیا جنہوں نے 11 مارچ 2014ء کو اپنے فیصلے میں جیسا کو حدیبیہ پیپرز ملز و دیگر بنام وفاق پاکستان فیصلے میں بیان کیا گیا کہ مزید تحقیقات قانونی طور پر ممکن نہیں ہے۔ ہم نے ریکارڈ پر موجود فیصلوں کا جائزہ لیا اور اخذ کئے جانے والے نتیجے پر حیران ہیں۔ لیکن نیب کی جانب سے مذکورہ فیصلوں کے خلاف اپیل دائر نہ کئے جانے پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی۔