انوسٹی گیٹو جرنلسٹس استغاثہ کا نعم البدل نہیں ہو سکتے،جسٹس شیخ عظمت سعید ، اضافی نوٹ
| |
Home Page
اتوار 29 رمضان المبارک 1438ھ 25 جون 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
انوسٹی گیٹو جرنلسٹس استغاثہ کا نعم البدل نہیں ہو سکتے،جسٹس شیخ عظمت سعید ، اضافی نوٹ

Todays Print

اسلام آباد (رانا مسعود حسین ، عاصم جاوید) پانامہ لیکس فیصلے میں جسٹس شیخ عظمت سعید نے اپنے اضافی نوٹ میں تحریر کیا ہے کہ انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کرنیوالا امیدوار نہ صرف عوامی عہدے کے لئے نااہل ہے بلکہ وہ عوام کے حق نمائندگی پر قابض مجلس شوریٰ میں ایک اجنبی شخص ہے۔ قانون میں غیر تصدیق شدہ دستاویزات کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی تاہم اس طرح کی دستاویزات پر قانونی کارروائی کے لئے ان کی تصدیق ضروری ہے۔ انوسٹی گیٹو جرنلسٹس استغاثہ کا نعم البدل نہیں ہو سکتے۔ سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت تحقیقات کرنے کی مجاز نہیں ، درست حقائق تک پہنچنے کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا قیام ناگزیر ہے جس کی پاکستانی قانون میں گنجائش موجود ہے۔ فاضل جسٹس نے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ اس مقدمے کے تصفئے میں ہمیں دلچسپ ، پیچیدہ اور قانونی موشگافیوں کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں ہم حد سے زیادہ سادگی اور دانشورانہ تفہیم میں سستی کا مظاہرہ نہیں کر سکتے۔ اس مقدمے میں اٹھائے گئے سوالات اپنے صحیح تناظر ، قانونی نقطہ نظر اور حقائق پر مبنی تجزئیے کے متقاضی ہیں۔ اس میں ذرائع آمدن کا سوال بھی متعلق ہو سکتا ہے لیکن اس کا تناظر قطعی مختلف ہو گا۔ جائیداد سے متعلق تمام کاغذات اور ان جائیدادوں کے مالیاتی ذرائع سے متعلق تمام دستاویزات مدعا علیہان کے پاس ہونے چاہئیں جو ان جائیدادوں کی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ تمام کاغذات جان بوجھ کر عدالت کے سامنے نہیں لائے گئے۔ لندن فلیٹس 90 کی دہائی سے شریف خاندان کے تصرف میں ہیں جن کے ملکیتی کاغذات رسپانڈنٹ نمبر 8 حسن نواز کے نام پر ہیں جو 90 کی دہائی میں ایک طالب علم تھا اور اپنے والد میاں محمد نواز شریف کے زیر کفالت تھا۔