بھارتی ردعمل مایوس کن، کلبھوشن کو قونصلر رسائی کا فیصلہ میرٹ پر ہوگا، پاکستان
| |
Home Page
جمعرات 04 شوال المکرم 1438ھ 29 جون 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
بھارتی ردعمل مایوس کن، کلبھوشن کو قونصلر رسائی کا فیصلہ میرٹ پر ہوگا، پاکستان

Todays Print

اسلام آباد (اے پی پی / صباح نیوز) پاکستان نے نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے تعلیمی اداروں اور طلباءکے خلاف باضابطہ جنگ شروع کرنے کی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بھارتی مظالم اور قتل عام کشمیریوں کو حق خود ارادیت کیلئے جائز جدوجہد سے روک نہیں سکتیں، پاکستان کشمیریوں کی سیاسی،اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، او آئی سی نے مقبوضہ کشمیر  فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجنے کا دوبارہ مطالبہ کیا ہے، بھارتی نیول کمانڈر کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی کا فیصلہ میرٹ پر کیا جائے گا، عدالتی فیصلے پر بھارتی رد عمل اور اشتعال انگیز بیانات انتہائی مایوس کن اور پاکستان میں دہشت گردی اور تخریبی کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کا واضح ثبوت ہیں، پاکستان میں داعش کی کوئی منظم وجود نہیں ، افغانستان میں ہے جس کی امریکا سمیت عالمی طاقتیں تصدیق کرچکی۔ جمعرات کو دفتر خارجہ کے ترجمان محمد نفیس ذکریا نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتہ بھارتی وزیر داخلہ کے اس دعوے کہ بھارتی حکومت ایک سال کے اندر صورتحال پر قابو پائے گی،کے بعد بھارتی قابض فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں تعلیمی اداروں اور طلباءکے خلاف باقاعدہ جنگ کا آغاز کر دیا ہے اور بھارتی فورسز نے خواتین کے کالجوں سمیت ایک درجن سے زائد تعلیمی ادروں پر حملے کئے جن میں سینکڑوں طلباءاور طالبات زخمی ہوئیں۔ترجمان نے کہا کہ بھارتی مظالم ،قتل عام اور پیلٹ گنز کا استعمال کشمیریوں کو ان کے جائز حق خودارادیت کیلئے جدوجہد سے روک نہیں سکتیں۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام معاملات پر بامعنی مذاکرات کیلئے تیار ہے۔کلبھوش یادیو کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ کلبوشن کے عدالتی فیصلے پر بھارتی رد عمل اور اشتعال انگیز بیانات پر مایوس کن ہیں۔بھارتی نیول کمانڈر کلبوشن پاکستان میں تخریبی اور دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث پایا اور اپنے تمام جرائم کا اعتراف کیا ہے۔اسے ملکی قانوں کے مطابق سزا دی گئی ہے۔بھارت کے شرانگیز بیانات عالمی اقدار کے خلاف اور پاکستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے واضح ثبوت ہیں۔پاکستان نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلقات کا خواہاں ہے۔