سینیٹ اجلاس، ریکوڈک سمیت ملک کو نقصان پہنچانے والے منصوبوں کی تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ، لوڈشیڈنگ پر احتجاج
| |
Home Page
اتوار 29 رمضان المبارک 1438ھ 25 جون 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
سینیٹ اجلاس، ریکوڈک سمیت ملک کو نقصان پہنچانے والے منصوبوں کی تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ، لوڈشیڈنگ پر احتجاج

Todays Print

اسلام آباد (نمائندگان جنگ / نیوز ایجنسیز) ارکان سینیٹ نے بلوچستان کے ریکوڈک سمیت ملک کو نقصان پہنچانے والے منصوبوں کی تفصیلات اور ان کے ذمہ داروں کو سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری، گوادر پورٹ کو چائنا کے حوالے کرنے اور اس سے بلوچستان کو ملنے والے فوائد قوم کے سامنے پیش کئے جائیںجبکہ لوڈ شیڈنگ پر سینیٹرز کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا اور توجہ دلاؤ نوٹس پر سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ وعدوں کے باوجود حکومت لوڈشیڈنگ پر قابو نہیں پا سکی، کرپشن ہورہی ہے جس کے جواب میں وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے کہا کہ جلد لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائے گی ، خطے کے مقابلے پاکستان میں بجلی کی قیمت کم ہے، مہنگے بجلی گھر لگانے کا تاثر درست نہیں ۔ جمعرات کے روز ایوان بالا میں ریکوڈک پراجیکٹ کی مائننگ کے حوالے سے تحریک التواء پر بات کرتے ہوئے سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ سینڈک منصوبے میں بلوچستان حکومت کو صرف2فیصد منافع دیاگیا جبکہ کمپنی والے بہت زیادہ کماتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج تک ہماری عدالتوں نے ایسے معاہدوں کے خلاف کوئی سوموٹو نہیں لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کمپنی کو10کلو میٹر تک علاقہ دیاگیا مگر وہ90کلومیٹر تک آگے چلے گئے۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ اس منصوبے پر بلوچستان حکومت نے ہمیشہ اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کو کوئی حق نہیں پہنچتا ہے کہ وہ اس طرح کے معاہدے کرے۔سینیٹر میر کبیر نے کہا کہ اس مسئلے کا صرف ایک حل ہے کہ منصوبے کو دوبارہ ٹینڈر کیا جائے اور سابقہ کمپنی کو اس کی رقم ادا کی جائے۔سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ بدقسمتی سے ریکوڈک منصوبے کیلئے جو ٹیم مقرر کی گئی ہے وہ بین الاقوامی عدالت سے مقدمہ جیتنے کی بجائے حکومت کے خرچوں پر عیش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مسائل کے حل کیلئے پارلیمنٹ کو آگے آکر قانون سازی کرنی ہوگی۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ مختلف ممالک کے ساتھ غلط منصوبے کرنے والوں کو قبروں سے نکال کر نشان عبرت بنایا جائے۔ تحریک التواء پر بحث کو سمیٹتے ہوئے وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ریکوڈک کا کیس اس وقت عالمی عدالت انصاف میں ہے اور اس پر بات کرنے کیلئے ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے جس پر سینیٹ نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کے آئندہ سیشن میں اس پر ان کیمرہ بریفنگ دی جائے گی، وزیرمملکت پانی وبجلی عابد شیرعلی نے ایوان بالا کو بتایا ہے کہ سابقہ ادوار میں بجلی کے مہنگے منصوبے لگائے گئے ہیں جبکہ موجودہ حکومت بجلی کے سستے منصوبے لگانے کو ترجیح دے رہی ہے اور جلد ہی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوجائے گا۔