سیاسی ڈائری:پاناماکیس کے فیصلے نے قوم کو ہیجانی کیفیت سے نجات دلادی
| |
Home Page
اتوار 3؍شعبان المعظم 1438ھ 30 اپریل 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
سیاسی ڈائری:پاناماکیس کے فیصلے نے قوم کو ہیجانی کیفیت سے نجات دلادی

Todays Print

اسلام آباد (محمد صالح ظافر ،خصوصی تجزیہ نگار)عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بنچ نے پاناما دستاویزات کے معاملے کا فیصلہ دیکر قوم کو ہیجانی کیفیت سے نجات دلادی ہے اس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیوں پر حاوی مندی ختم ہوجائے گی اور طرح طرح کے پیدا شدہ اندیشے ختم ہوجائیں گے۔ تحریک انصاف کے سربراہ گزشتہ چار سال میں وزیراعظم نواز شریف سے چار ہزار ایک سو انیس مرتبہ مستعفی ہونے کا تقاضا کرچکے ہیں ان کے اس مطالبے پر اصرار سے ہی ان کی ذہنی علالت کا پتہ چل جاتا ہے اس مطالبے کی نفسیات کی پشت پر وہ ناقابل برداشت خواہش موجزن ہے جس کا تعلق ان کا وزیراعظم بننے کے خواب سے ہے وہ اٹھتے بیٹھتے اپنی اس آرزو کو دل میں لئے مصروف عمل رہتے ہیں بدقسمتی سے انہیں امور سیاست کا واجبی شعور بھی نہیں ہے یہی وجہ ہےکہ راولپنڈی کے ایک بدزبان سے مل کر بالفاظ دیگر اس کے زیر اثر آکر انہوں نے اپنا ذہن ہی بگاڑ لیا ہے ملکی سیاست میں بڑے بڑے خوفناک ادوار بھی آئے ہیں لیکن جس بازاری لہجے کو انہوں نے ر وا ج دیا ہے ، دشنام طرازی اور الزام بازی کو جس طورپر انہوں نے اپنا معمول بنایا ہے اس نے انہیں کسی ذمہ داری کااہل نہیں چھوڑا اپنی ہر ناکامی اور ہر شکست کو وہ اپنے مطالبہ دے کرا سے کامیابی سے تعبیر کرلیتے ہیں اور پھر تالیاں بھی پٹواتے ہیں حالانکہ ان کی ’’رائے عامہ‘‘ کو علم ہوتاہے کہ وہ کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچ رہے ہیں۔ جمعرات کو عدالت عظمیٰ کی کارروائی کی ابتدا میں وہ منظر دیدنی تھا جب فاضل جج صاحب نے فیصلہ پڑھتے ہوئے بتایا کہ بنچ کے سربراہ نے وزیراعظم نواز شریف کو ناہل قرار دیدیا ہے اس کے سیاق و سباق کو سنے بغیر عمران خان نے اپنے دست راست جہانگیر خان ترین جو ان پر بھاری سرمایہ کاری کررہے ہیں کے ساتھ بے قابو ہو کر بغلگیر ہونا شروع ہوگئے کہ انہیں گوہر مراد مل گیا ہے اسی اثناء میں ایک قانون دان نے انہیں کان میں بتایا کہ یہ فیصلہ نہیں ہے فاضل جج صاحب کا محض اختلافی نوٹ ہے تو وہ جھاگ کی طرح ٹھنڈے ہو کر بیٹھ گئے۔ عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بنچ نے پاناما دستاویزات کے معاملے کا فیصلہ دیکر قوم کو ہیجانی کیفیت سے نجات دلادی ہے اس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیوں پر حاوی مندی ختم ہوجائے گی اور طرح طرح کے پیدا شدہ اندیشے ختم ہوجائیں گے۔ ملک اس وقت زبردست ترقی کے مرحلےمیں داخل ہونے کے لئے فیصلہ کن جست لگانے کی حتمی تیاری کرچکاہے ان حالات میں ایسی کوئی بھی صورتحال پیدا کرنا جس سے ملکی استحکام کے لئے خطرات پیدا ہوتے ہوں صریح ملک دشمنی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا عظیم الشان منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے جس کے خلاف سرگرم عالمی قوتیں عدالت عظمیٰ میں جاری پاناما کے معاملے سے بڑی توقعات لگائے بیٹھی تھیں اور اس عرصے میں ان کے ہرکارے مختلف شکلوں میں سرگرم عمل تھے۔