مشال قتل کیس، 2 یونیورسٹی اہلکاروں نے تشدد کا اعتراف کرلیا، 6 کا صحت جرم سے انکار
| |
Home Page
جمعرات 04 شوال المکرم 1438ھ 29 جون 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
مشال قتل کیس، 2 یونیورسٹی اہلکاروں نے تشدد کا اعتراف کرلیا، 6 کا صحت جرم سے انکار

Todays Print

مردان ( نمائندہ جنگ) عبدالولی خان یونیورسٹی  مردان کے طالب علم مشال خان کے قتل کیس میں  گرفتار 8ملزموں کو جمعرات کے روز سول جج محب اللہ خان کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں دو ملزمان نے مشال پر تشدد کا اعتراف کیا جبکہ دیگر چھ ملزمان نے صحت جرم  سے انکار کردیا ۔ ملزمان کو چار روزہ ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیدیا گیا ۔ مزید 8ملزمان کی گرفتاری سے مشال قتل کیس میں گرفتار ملزمان کی تعداد 32ہوگئی ہے ۔ عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال قتل کیس میں گرفتار 8ملزمان کوچار روزہ ریمانڈ مکمل ہونے پر      سول جج محب اللہ خان کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ملزمان کے بیانات ریکارڈ کرنے کا سلسلہ شام سات بجے تک جاری رہا اس دوران مبینہ   ملزم حضرت بلال جو  یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات کا ڈرائیور بتایا  جاتا  ہے نے مشال کو لاتیں مارنے جبکہ یونیورسٹی کے کلرک حنیف نے لاش کی بے حرمتی کا اعتراف جرم کرلیا۔ جبکہ باقی چھ ملزمان سہراب، عماد ،سنی، انیس ،سید عباس اور علی حسن نے اعتراف جرم  سے انکار کردیا جس پر آٹھوں ملزموں  کو تین مئی تک  جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ۔دریں اثناء مشال قتل کیس میں مزید آٹھ ملزمان  کوگرفتار کر لیا گیا ہے  ۔