Editorial Note - سوشل میڈیا اور آزادیٔ اظہار - column - 2017-05-16
| |
Home Page
اتوار یکم رمضان المبارک 1438ھ 28 مئی 2017ء
ادارتی نوٹ
May 16, 2017 | 12:00 am
سوشل میڈیا اور آزادیٔ اظہار

Social Media Aor Aazadi Izhar

انٹرنیٹ کی انقلابی ایجاد نے پوری دنیا کے لوگوں کیلئے ایک دوسرے سے ہمہ وقت رابطے میں رہنے کی راہ ہموار کردی ہے جو یقیناًایک بہت بڑی سہولت ہے مگر شرپسند اور جرائم پیشہ افراد مختلف شکلوں میں اس سہولت کا بڑے پیمانے پر ناجائز استعمال بھی کررہے ہیں۔اس طرح کی منفی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے ترقی یافتہ ملکوں میں خصوصی قانون سازی اور اقدامات کیے جاتے رہتے ہیں اور پاکستان میں بھی سائبرکرائم پر قابو پانے کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جاچکی ہے تاہم پچھلے دنوں اسلام کی مقدس شخصیات کی توہین کا سلسلہ جاری رہا جبکہ ان دنوں فوج کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی اور ہرزہ سرائی کے واقعات مسلسل سامنے آرہے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ نے گزشتہ روز اس صورت حال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سائبرکرائم ونگ کو پاک فوج کو تضحیک کا نشانہ بنانے والے عناصر کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے صراحت کی ہے کہ آئین پاکستان واضح کرتا ہے کہ ملکی سیکوریٹی اور دفاع کے معاملات اور متعلقہ اداروں کو ہدف تنقید نہیں بنایا جائے گا اور کوئی شہری کسی ایسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوگا جس سے فوج کے وقار پر حرف آئے۔وزیر داخلہ نے ہدایت کی ہے کہ دانستہ یا نادانستہ طور پر اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف بلاتفریق سخت کارروائی کی جائے خواہ ان کا تعلق کسی بھی جماعت یا پیشے سے ہو۔جائز حدود میں رہتے ہوئے کسی بھی معاملے میں شائستگی اور دلیل کے ساتھ اختلاف کرنا بلاشبہ آزادی اظہار کے منافی نہیں لیکن کسی بھی ادارے، جماعت یا فرد کے خلاف بے بنیاد رکیک حملے اور توہین و تضحیک پر مبنی مواد کی اشاعت آزادی اظہار کے جائز حدود سے کھلا تجاوز ہے جس کی اجازت کسی صورت نہیں دی جانی چاہیے۔فوج کو بے وقار کرنے کی کوشش کرنے والے عناصر یقیناًپاکستان دشمن طاقتوں کے مقاصد کی تکمیل کررہے ہیں، ایسے شرپسند عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی ملک کی بقا اور سلامتی کا تقاضاہے اور متعلقہ ذمہ داروں کو اس میں ہرگز کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔

.