کنزرویٹو منشور میں سوشل کیئر ٹیک اپ کیلئے تھریسامے کے منصوبے بھی شامل
| |
Home Page
جمعرات 04 شوال المکرم 1438ھ 29 جون 2017ء
May 19, 2017 | 12:00 am
کنزرویٹو منشور میں سوشل کیئر ٹیک اپ کیلئے تھریسامے کے منصوبے بھی شامل

Todays Print

لندن (پی اے) کنزرویٹو منشور میں سوشل کیئر شیک اپ کے لیے تھریسامے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ وزیراعظم نے منشور لانچ کرتے وقت انگلینڈ میں سوشل کیئر کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور امیگریشن میں کمی کے اقدامات کا وعدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی ہوم کیئر کے لیے زندگی میں رہائشی گھر فروخت نہیں کرنا پڑے گا بلکہ اخراجات کم از کم ایک لاکھ پونڈ ہونے پر مرنے کے بعد اس کی جائیداد سے لیے جائیں گے۔ حکومت کے سابق ایڈوائزر سر اینڈریو ڈلنوٹ نے کہا ہے کہ بہت سارے لوگوں کو کیئر کے اخراجات سے تحفظ حاصل نہیں۔ منشور میں خوش حال پنشنرز کے لئے ونٹر فیول پیمنٹس کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ سر اینڈریو نے2011ء میں کولیشن حکومت کے لیے سوشل کیئر کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی تھی۔ جس میں سفارش کی گئی تھی کہ کیئر کے اخراجات میں انفرادی کنٹری بیوشن35ہزار پونڈ پر روک دیا جائے۔ ان تجاویز کے بارے میں مایوس کن امر یہ ہے کہ وہ سوشل کیئر میں سب سے بڑے مسئلے کا تدارک کرنے میں ناکام رہیں۔ کیئر کے اخراجات کے خلاف تحفظ کے لیے کوئی چیز دستیاب نہیں۔ انہوں نے بی بی سی ریڈیو4کے ٹو ڈے پروگرام میں بتایا کہ لوگوں کو بے بس بنادیا گیا ہے اور یہ اس حقیقت کو جاننے کے ساتھ کیا گیا کہ اس وقت کیا ہوگا جب وہ کیئر کے اخراجات برداشت کرنے والے خوش قسمت نہیں ہوں گے اور ان کو اس کے لیے اپنا گھر قربان کرنا پڑے گا۔ بی بی سی کے صحت کے نامہ نگار نک ٹرگل نے کہا ہے کہ جو کچھ کزرویٹوز نے تجویز کیا ہے وہ خاصا پیچیدہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ اپنے کیئر کے لیے زیادہ رقم ادا کریں اور مرنے تک انتظار کے لیے تیار ہیں، تاکہ جائیداد سے رقم لے سکیں۔ ان کے منصوبوں کے کچھ اجزا فراخدلی کے مظہر ہیں۔ ان سے بعض لوگوں کو فائدہ ہوگا۔ تاہم لوگوں کی بڑی تعداد کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ہیلتھ سیکرٹری جریمی ہنٹ نے منشور کی تجاویز کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی بریک فاسٹ کو بتایا کہ ہر ایک کو یہ جان کر سیکورٹی میسر ہوگی کہ وہ اپنے بچوں کے لیے ایک لاکھ پونڈ فراہم کرسکتا ہے۔ سکاٹ لینڈ میں ایس این پی حکومت نے فری پرسنل کیئر کی پالیسی برقرار رکھی ہے۔ بی بی سی کی پولیٹیکل ایڈیٹر لورا کینبرگ نے کہا ہے کہ تھریسا مے کا امیگریشن کے بارے میں پیغام سمجھوتے کے لائق نہیں اور وہ مائیگریشن کو ہزاروں تک لانے کی بات کریں گی۔ ناقدین نے بھی کہا ہے کہ اس منصوبے سے تنازعہ سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معیشت کو نقصان کے بغیر اہداف کا حصول ناممکن ہوگا۔ بدھ کو سابق چانسلر جارج اوسبورن کی زیر ادارت شائع ہونے والے ایوننگ سٹار کے اداریے میں اہداف کو غیر حقیقی قرار دیا گیا ہے۔