رمضان کی آمد، نبی کریمﷺ کا اتباع اللہ تعالیٰ کی رضا کا سبب بنتا ہے، علامہ عبدالعزیز چشتی
| |
Home Page
ہفتہ 27 شوال المکرم 1438ھ 22 جولائی 2017ء
May 19, 2017 | 12:00 am
رمضان کی آمد، نبی کریمﷺ کا اتباع اللہ تعالیٰ کی رضا کا سبب بنتا ہے، علامہ عبدالعزیز چشتی

Todays Print

لندن (جنگ نیوز)مرکزی جماعت اہلسنت یوکے اینڈ اوورسیز ٹرسٹ کے جنرل سیکرٹری جامعہ اسلامیہ غوثیہ لوٹن کے بانی و مہتمم خطیب ملت علامہ قاضی عبدالعزیز چشتی نے کہا کہ چند ہی دنوں کے بعد نیکیوں کا موسم بہار اللہ تعالیٰ کی رحمتوں برکتوں کے نزول کا مقدس مہینہ رمضان المبارک جس کی ہر رات اور ساعت باعث برکت و رحمت ہے اپنی پوری برکات و حسنات لیکر مومنوں کیلئے نوید بخشش لیکر آرہا ہے۔ روایت کے مطابق اس بابرکت و باعظمت ماہ مبارک کی آمد سے قبل ہی ماہ شعبان اعظم میں ہی سرکاردوعالمﷺ اس کی تیاری فرمالیتے آپ کی عبادت و ریاضت میں اضافہ ہوجاتا اور آقا کریمﷺ اپنے پیارے صحابہ کرام کو بھی اپنے ساتھ شامل فرمالیتے، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ بنت صدیق روایت فرماتی ہیں کہ اس ماہ شعبان اعظم میں سرکاردوعالم کثرت سے روزے رکھتے جب میں نے کثرت صیام کی وجہ معلوم کی تو آپ نے فرمایا اس ماہ میں بندوں کے اعمال اللہ کے حضور پیش کئے جاتے ہیں عائشہ میں چاہتا ہوں کہ جب میرے اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں۔ سرکار دوعالم کا یہ عمل مبارکہ امت کیلئے ترغیب کیلئے تھا تاکہ میری محبوب امت استقبال رمضان کی تیاری کرے اور اپنے لئے بخشش کا سامان کرے۔ ماہ شعبان کو اللہ کے رسولﷺ نے اپنا اور رمضان کو اللہ کا مہینہ کہا ہے۔ قرآن نے پیغام دیا اے محبوب آپ فرمادیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو وہ آپ کی اطاعت کریں، اللہ ان سے محبت بھی کرے گا اور ان کے گناہوں کو معاف بھی کردے گا وہ غفور ہے اور رحیم بھی ہے۔ نبی پاکﷺ کی محبت و اتباع بندۂ مومن کو اللہ کا محبوب بھی بنادیتی ہے اور بخشش و مغفرت کی نوید بھی سنادیتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی صدارت میں منعقد ہونے والے عظیم الشان جلسۂ استقبال رمضان اور جشن شب برأت کے بڑے اجتماع جس میں زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد نے شمولیت کی جس میں خواتین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اس سالانہ اجتماع کا آغاز سرشام ہی مولانا قاری محمد کامران اور قاری محمد شعیب کی مکمل سورت یٰسین کی تلاوت نوافل کی ادائیگی اور قاضی تنزیل الرحمٰن کی نعت سے ہوا۔ سابق میئر آف بلیک برن و سابق منسٹر ویلفیئر ہائی کمیشن پاکستان لندن راجہ ثالث رضا کیانی نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں مسلمانوں کی اس پروقار تقریب میں شمولیت اس چیز کی غماز ہے کہ برطانیہ و یورپ میں مسلمانوں کا مستقبل روشن ہے۔ خطیب پاکستان علامہ صاحبزادہ محمد طیب الرحمٰن ہزاروی نے کہا کہ شب برأت ان مقدس اور بابرکت راتوں میں سے ایک رات ہے جس میں اگر کوئی بندۂ مومن صدق دل سے اللہ کے حضور سچی توبہ کرے اسے بخشش و مغفرت کی بشارت سنادی جاتی ہے۔ انہوں نے قرآن پاک سے استدلال پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی بندہ صدق دل سے توبہ کرلیتا ہے تو اللہ کریم اس کے گناہوں کو نیکیوں سے تبدیل کردیتا ہے۔ بے شک وہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ سابق میئر کونسلر راجہ وحید اکبر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اس رات کو اپنے بندوں پر اپنی خاص نظرکرم فرماتا ہے اور طلوع فجر تک مغفرت کیلئے اپنی شان کے لائق پکار جاری رہتی ہے یہ تجدید عہد کی رات ہے کہ ہم اللہ کے حضور اس کی بندگی، عبادت، اطاعت کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کا اہتمام کریں۔ نوجوان اسلامک سکالر صاحبزادہ قاضی ضیاء المصطفیٰ چشتی نے کہا کہ قرآن ایسی کتاب انقلاب ہے جس نے پوری انسانیت کی ہدایت و رہنمائی کامیابی و کامرانی کی گائیڈ لائن دی ہے۔سابق میئر آف لوٹن کونسلر محمد ریاض بٹ نے کہا کہ شب برأت میں تقسیم رزق کے علاوہ موت و حیات ، صحت و بیماری اور دیگر اہم امور کے فیصلے کئے جارہے ہوتے ہیں۔ لہذا ہمیں ان بابرکت ساعتوں میں سچے دل سے بارگاۂ رب العزت میں دعائیں، التجائیں، مناجات سے اپنے رب کو منالینا چاہئے۔ لوٹن باروکونسل کے کیبنٹ ممبر کونسلر راجہ محمد اسلم خان نے کہا کہ آئیے ہم اس مشن اور پروگرام کو آگے لیکر بڑھیں کہ جو ہمارے بھائی گمراہی کے راستے پر گامزن ہیں انہیں ماہ رمضان کی مبارک راتوں میں مساجد میں اور ایسے پروگرام، تقاریب میں لاکر خود بھی اور انہیں بھی صراط مستقیم پر چلنے کیلئے راستہ ہموار کریں۔ جن دیگر نے اظہار خیال کیا ان میں راجہ محمد یعقوب، ملک محمد اکرم، پروفیسر محمد ممتاز بٹ، پروفیسر محمد امتیاز،ملک محمد شبیر، ملک محمد آزاد، چوہدری محمد اشتیاق، خلیفہ محمد محفوظ و دیگر شامل تھے۔ بارگاۂ رسالت مآبﷺ میں درودوسلام پیش کیا گیا آخر میں خطیب ملت علامہ قاضی عبدالعزیز چشتی نے نہایت رقت بھرے انداز سے دعا کرائی۔