نصف سے زائد برطانوی شہروں میں کرائے پر لی گئی پراپرٹی خریداری سے سستی پڑتی ہے
| |
Home Page
جمعہ 29؍شعبان المعظم 1438ھ 26 مئی 2017ء
May 19, 2017 | 12:00 am
نصف سے زائد برطانوی شہروں میں کرائے پر لی گئی پراپرٹی خریداری سے سستی پڑتی ہے

Todays Print

لندن (پی اے)ایک پراپرٹی ویب سائٹ کے مطابق نصف سے زائد بڑے برطانوی شہروں اور ٹائونز میں کرائے پر لی گئی پراپرٹی خریداری سے سستی پڑتی ہے۔ زوپلا نے برطانیہ کے 50شہری علاقوں میں دو بیڈرومز والے مکان کے ماہانہ اخراجات سے مورگیج حاصل کرنے سے موازنے کا تجزیہ کیا تھا۔ ویب سائٹ اس نتیجے پر پہنچی کہ 54فیصد مقامات پر خریداری کی بہ نسبت کرائے پر مکان کا حصول سستا پڑتا ہے۔ اس تجزیئے نے اکتوبر 2016ء میں کی گئی ایسی ہی ایک ریسرچ کے نتائج کو جھٹلادیا ہے جب بیشتر (60فیصد) مقامات پر خریداری نے کرائے داری کو مات دے دی تھی۔ لندن میں پراپرٹی کی خریداری کے مقابلے میں ماہانہ بنیاد پر حصول سستا پڑتا ہے ریسرچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دارالحکومت میں پراپرٹی فروخت کرنے کیلئے اوسط ڈیمانڈ599,950 پونڈز کی جاتی ہے۔ اعدادوشمار کے تجزیئے کے مطابق لندن میں اوسط ماہانہ کرایہ 1,861پونڈز ہے جبکہ مالک مکان کو مورگیج کی ماہانہ ادائیگی کی مد میں تقریباً 3,001پونڈز کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ کیمرج اور برسٹل جہاں مکانات کی قیمتیں حالیہ برسوں میں تیزی سے بڑھی ہیں وہ بھی ان مقامات کی فہرست میں شامل ہیں جہاں مکان کرائے پرلینا خریداری کے مقابلے میں نسبتاً سستا پڑتا ہے۔ اسی اثنا میں گلاسگو اور ڈندی ان شہروں کی فہرست میں ٹاپ پر تھے جہاں مورگیج کی ماہانہ ادائیگی مکان کے اوسط کرائے سے کم ہے۔ زوپلا کے تجزیئے کے مطابق برطانیہ کے 50بڑے شہروں میں دو بیڈروم کے مکان کا اوسط ماہانہ کرایہ 690پونڈز ہے جوکہ مورگیج کی ماہانہ ادائیگی 737پونڈز کے مقابلے میں 47پونڈز ماہانہ کم ہے۔ زوپلا کے ترجمان لارنس ہال کا کہنا ہے کہ یہ اعدادوشمار ایسے افراد کے لئے حوصلہ افزا ہیں جوکہ فی الوقت کرائے کے مکان میں سکونت پذیر ہیں اور شاید زیادہ سے زیادہ رقم پس انداز کرنے کے لئے متحرک ہیں جوکہ پراپرٹی پر سرمایہ کاری کی بہ نسبت زیادہ ہوسکتی ہے یہ امر پیش نظر رکھنا ہوگا کہ کرائے دار ملک کے بعض علاقوں میں مختصر یا وسط مدتی اصطلاح میں فائدے میں ہیں جبکہ پراپرٹی کی خریداری ایک طویل المدت سرمایہ کاری ہوتی ہے۔