مولانا بوستان القادری اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، علمائے کرام
| |
Home Page
منگل 26؍شعبان المعظم 1438ھ 23 مئی 2017ء
May 19, 2017 | 12:00 am
مولانا بوستان القادری اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، علمائے کرام

Todays Print

برمنگھم (آصف محمود براہٹلوی) مولانا بوستان القادری اپنی ذات میں انجمن تھے۔ برطانیہ میں ان کی تبلیغ اسلام، دینی خدمات اور کمیونٹی کی رہنمائی نصف صدی پر محیط ہے۔ ان کی عظیم دینی، ملکی اور تنظیمی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے پہلی برسی کے موقع پر قومی سیمینار اہم فیصلہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار سنی کنفنڈریشن آف مساجد مڈلینڈ کے صدر راجہ سلیم اختر انٹرنیشنل مسلم فورم کے چیئرمین صاحبزادہ محمد رفیق چشتی، امام حفیظ الرحمٰن، چوہدری محمد عظیم، سید ظفر اللہ شاہ، صاحبزادہ فاروق القادری نے اپنے مشترکہ بیان میں مولانا بوستان القادری کی وفات پر ایک برس مکمل ہونے پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا۔ راجہ سلیم اختر نے کہا کہ مرحوم صوفی عبداللہؒ سے مل کر آج سے تقریباً پچاس برس قبل عشق مصطفیٰ ﷺ میں ڈوب کر جس میلاد مصطفےٰ کے جلوس کا آغاز کیا تھا وہ آج تک جاری و ساری ہے، یقیناً قیامت تک انہیں اس کا صلہ ملتا رہے گا۔ صاحبزادہ محمد رفیق چشتی نے کہا کہ مولانا بوستان القادری نے ہر دور میں بین المسالک کے درمیان ہم آہنگی کے لئے بھرپور کردار ادا کیا۔ میںسمجھتا ہوں کہ آج کے دور میں امت کو درپیش مسائل ہم آہنگی کی وجہ سے آدھے ہوسکتے ہیں۔ علامہ سید ظفر اللہ شاہ نے کہا کہ وقت بڑی تیزی سے گزر رہا ہے۔ پتا ہی نہ چلا اور ایک برس بیت گیا۔ یقیناً مولانا بوستان القادری کی دینی اور کمیونٹی خدمات کا احاطہ کرنا مشکل ہے مگر پھر بھی آئندہ آنے والے ہفتہ کو سلطان باہو جامع مسجد میں انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے سیمینار کا انعقاد کیا گیا ہے۔ امام حفیظ الرحمٰن چشتی، چوہدری عظیم، صاحبزادہ فاروق القادری نے کہا کہ ساری زندگی انہوں نے اتحاد امت کے لئے جدوجہد کی، ان کے مشن کی تکمیل تک کردار ادا کرتے رہیں گے۔