عالمی عدالت سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی پر حکم امتناع
| |
Home Page
ہفتہ 30؍شعبان المعظم 1438ھ 27 مئی 2017ء
May 19, 2017 | 12:00 am
عالمی عدالت سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی پر حکم امتناع

Todays Print

اسلام آباد (نمائندگان جنگ / جنگ نیوز) عالمی عدالت سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی پر حکم امتناع پر پاکستانی دفتر خارجہ نے کہاہے کہ قومی سلامتی پر عالمی عدالت انصاف کا دائرہ کار تسلیم نہیں کرتے‘ بھارت کلبھوشن یادیو کے سہولت کاروں تک رسائی فراہم کرے،قومی سلامتی پرسمجھوتہ ممکن نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف نے واضح کیا ہے کہ یہ عبوری اقدام کیس کے میرٹ اور دائرہ اختیار سے مکمل طور پر ہٹ کر ہے جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا ، عبوری فیصلے سے کلبھوشن پر پاکستان کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا ، قومی سلامتی سب سے مقدم ہے ۔ وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب نےکلبھوشن کیس منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق عالمی عدالت انصاف کی جانب سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی کی سزا پر حکم امتناع جاری کرنے کے فیصلہ کے حوالے سے اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے جاری اعلامیہ میں رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عالمی عدالت انصاف نے آج کے عبوری حکم میں عبوری طور پر سزا یافتہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے مقدمہ میں حکم امتناع جاری کیا ہے جوکیس کے میرٹس اور دائرہ اختیار سے مکمل طور پر ہٹ کر ہے ، عبوری اقدامات ایک عدالتی طریقہ کار ہے جو عدالت کو مقدمہ کا تفصیل سے جائزہ لینے کے قابل بناتا ہے ، اس اقدام کا کیس کے حتمی فیصلہ سے کوئی تعلق نہیں ،پاکستان نے مقدمہ کی سماعت میں عالمی عدالت انصاف کے احترام اور اس نوعیت کے معاملات میں عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرنے کیلئے شمولیت اختیار کی ہے ،جو عدم شمولیت کی صورت میں ممکن نہیں تھا۔ دریں اثنااٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن یادیو کے مقدمہ میں عالمی عدالت انصاف کے عبوری حکم امتناع کا مطلب ہی یہی ہے کہ یہ فیصلہ حتمی نہیں،ہم نے عالمی عدالت انصاف کو یہ بتادیا ہے کہ جب تک وہاں پر اس مقدمہ کی کارروائی جاری ہے ملزم کلبھوشن کو پھانسی پر نہیں لٹکایا جائیگا،بھارت نے ایک حاضر سروس نیوی کمانڈر کو جاسوسی کیلئے پاکستان بھیجا تھا ایک ملزم تک ہم قونصلر رسائی کیسے دے سکتے ہیں؟ ملزم ایک سال سے زیر حراست ہے اور بھارت کواب اس کا خیال آیا ہے ، بھارت کو اس مقدمے میںمنہ کی کھانی پڑیگی، ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ ہمارا مؤقف درست ہے یا غلط؟ اسکے بعد فیصلہ کیا جائیگا کہ ملزم کو قونصلر تک رسائی دینی ہے یا نہیں؟ دریں اثناء وزا ر ت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم کے مشیربرائے خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو کے معاملے پر عالمی عدالت انصاف میں ہمارے وکیل نے پاکستان کا کیس بڑے مؤثر اور جامع انداز میں پیش کیا ، وکیل کا انتخاب درست نہ ہونے کا تاثر درست نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن کے فیصلے کے دو پہلو ہیں‘ عالمی عدالت انصاف سے کلبھوشن یادیو کو پھانسی کے معاملے پر حکم امتناع ملنا کوئی بڑی بات نہیں۔ اپیل پر زیادہ تر کیسز میں حکم امتناع مل جاتا ہے۔ ہماری اپنی عدالتوں میں بھی نظر ثانی کی اپیلوں پر ایسا ہی فیصلہ آتا ہے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ ملک کی سکیورٹی وجوہات اہم ہیں، اپنی سلامتی پرکسی صورت کمپرومائز نہیں کریں گے ۔ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ ایڈہاک جج عالمی عدالت میں تعینات کرتے۔ عالمی عدالت نے قونصلر رسائی پر صرف رائے کا اظہار کیا ہے کوئی حکم نہیں دیا۔ ہمارا موقف تھا کہ دو طرفہ معاہدے میںسکیورٹی معاملات میں قونصلر رسائی کا فیصلہ ہائی کیس ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے بعدوکیلوں کی نئی ٹیم بنائیں گے اور ایڈہاک جج بھی تعینات کریں گے۔ دریں اثنا وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے دائرہ کار سے متعلق پاکستان ڈیکلریشن جمع کرا چکا ہے ‘ ڈیکلریشن کے تحت قومی سلامتی پر عالمی عدالت انصاف کا دائرہ کار تسلیم نہیں کرتے‘ بھارت کلبھوشن یادیو کے سہولت کاروں تک رسائی فراہم کرے ‘ بھارت کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کریں گے ‘ بھارت نے پاکستان کو کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف نے ماضی میں 3؍ مرتبہ ایسا فیصلہ دیا ، پاکستان اور بھارت کے درمیان 2008ء کا قونصلر رسائی معاہدہ موجود ہے۔ معاہدہ کے تحت آرٹیکل 6 کے تحت رسائی کا فیصلہ میرٹ آف دی کیس پر ہوتا ہے۔ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کی جانب سے رابطہ سے آگاہ نہیں ہوں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر مسئلہ حل کرنے کے لئے دونوں اطراف کی ملٹری کی سطح پر رابطہ جاری ہے اور سروے کیا جارہا ہے مسئلہ کے حل ہونے تک سرحد کو کھولنا لوگوںکی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے ، انہوں نے کہا کہ بھارت کی قابض افواج مسلسل لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کررہی ہیں اور سول آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں تاکہ مقبوضہ کشمیر میںسنگین انسانی حقوق کی صورتحال سے دنیا کی توجہ ہٹا سکے۔ ادھر وزیر دفاع خواجہ آصف نےبرطانوی نشریاتی ادار ے کوانٹرویومیں کہا کہ پاکستان کی قومی سلامتی سب سے مقدم ہے اور کلبھوشن کیس میں کوئی بھی فیصلہ بیرونی دباؤ کے بجائے قومی سلامتی کو دیکھتے ہوئے کیا جائیگا۔ہماری سب سے اہم ترجیح ہماری قومی سلامتی ہے، قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں،وزیر دفاع نے کہا کہ یہ صرف عبوری فیصلہ ہے اور اس سے کسی کی جیت یا ہار کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا۔ ʼکلبھوشن  کے پاس اپنی سزا کے خلاف اپیل کرنے کیلئے دو پلیٹ فارم ہیں، وہ سپریم کورٹ کے پاس بھی جا سکتے ہیں اور پھر صدر کے پاس بھی۔ اور ان کو تو ویسے بھی ابھی پھانسی نہیں دی جا رہی تھی، انہوں نے کہا کہ کلبھوشن کی پھانسی میں تاخیر نہیں کی گئی بلکہ قانونی کارروائی کا ٹائم فریم طے ہے جس پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔