ناقص حکمرانی اور انصاف نہ ہونے سے نوجوانوں کا استحصال ہورہا ہے، دہشت گردی کی وجوہ ختم کی جائیں، آرمی چیف
| |
Home Page
ہفتہ 30؍شعبان المعظم 1438ھ 27 مئی 2017ء
May 19, 2017 | 12:00 am
ناقص حکمرانی اور انصاف نہ ہونے سے نوجوانوں کا استحصال ہورہا ہے، دہشت گردی کی وجوہ ختم کی جائیں، آرمی چیف

Todays Print

راولپنڈی( نیوز ایجنسیز/جنگ نیوز) پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ناقص حکمرانی اور انصاف نہ ہونے سے نوجوانوں کا استعمال ہورہا ہے، نوجوان نسل ہمارے مستقبل کا سرمایہ ہیں لیکن بے چہرہ اور بے نام قوتیں سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کومسلسل گمراہ کررہی ہیں، انہیں بامقصد زندگی میں  مصروف کیا جائے، دہشت گردوں کو شکست دینے کے بعد انکے بیانیے کو بھی شکست دینا ہوگی، سیکورٹی خدشات کم کرنے ہی سے ترقی کا سفر آگے بڑھے گا، فوج اکیلے کچھ نہیں کر سکتی،سب کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنا ہونگی، دہشتگردی کی وجوہ ختم کی جائیں۔ آئی ایس پی آر کے زیر اہتمام ’’انتہا پسندی کو مسترد کرنے میں نوجوانوں کا کردار‘‘ کے عنوان سے جی ایچ کیو میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کر کے دہشت گردی کیخلاف جنگ جیتی جا سکتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے کردار کو پوری دنیا نے سراہا، پاکستان کی فوج دنیا کی بہادر ترین فوج ہے جس نے دہشت گردوں کے خلاف انتہائی منفرد جنگ لڑی، زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان نسل ہمارا روشن مستقبل ہے اور اپنے مستقبل کو دہشت گردوں کے ہاتھوں تباہ نہیں ہونے دیں گے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نوجوان نسل کا کردار انتہائی اہم ہے، نوجوان نسل کو صحیح راہ پر گامزن کرنا ہوگا، شدت پسندی کسی نظریے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مائنڈ سیٹ ہے جو عدم برداشت پیدا کرتا ہے۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنا انتہائی غلط اور افسوسناک ہے، دہشت گردی کی بڑی وجہ نا انصافی اور عدم برداشت ہے، والدین، اساتذہ اور متعلقہ اداروں کی مدد سے نوجوانوں کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھیں گے، ریاست کی رٹ کو مکمل طور پر بحال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری آبادی کا 50 فیصد سے زائد 25 سال سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ہمارے ملک کا مستقبل ان ہی نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ʼہم ایک دوراہے پر کھڑے ہیں، آج سے 10 سال بعد یا تو ہم پھل کاٹ رہے ہوں گے یا پھر یہ دیکھ رہے ہوں گے کہ کس طرح ہمارے نوجوان شدت پسندی کے ہاتھوں متاثر ہوئے۔ آرمی چیف نے کہا کہ مشرقی پاکستان میں پراکسی وار میں ہندوستانی قیادت کا ملوث ہونا کوئی راز نہیں اور اب بلوچستان میں بھی ان کے مقاصد کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ انہوں کہا کہ بھارت نے انتہا پسندی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں، انتہا پسندی کو اب معمول کی بات سمجھ لیا گیا ہے، نفرت بھارت کے مرکزی دھارے میں آچکی ہے اور بھارت کا قومی چہرہ مسخ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین کسی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کر دیں گے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ آپریشن رد الفساد نئے دور کا آغاز ہے اور سیکیورٹی خطرات ختم کرکے ترقی کی راہیں کھول دی ہیں۔  انہوں نے کہا کہ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک بہادر، پیشہ وارانہ اور محب وطن فوج کی قیادت کرنے کا اعزاز بخشا ہے جس پر مجھے فخر ہے اور مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آپ کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ آپ میں سے ہر ایک ہماری پشت پر تھا۔ معاشرے کے تمام طبقات خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور میڈیا کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے دہشت گردوں کے خاتمے میں تسلسل کے ساتھ ہماری مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اہم ترین مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ہم بتدریج دہشت گردی کے خلاف بڑے آپریشنز سے ٹارگٹڈ آپریشنز کی طرف سے منتقل ہوئے ہیں۔ آپریشن ردالفساد کے ساتھ ساتھ ہمیں نیشنل ایکشن پلان میں ایسے طریقہ کار کو بھی اپنانا ہے جس کے ذریعے دہشت گردی کے اسباب کو بھی حل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے پروگرام کا مقصد دہشت گردی کے خلاف اجتماعی حل تلاش کرنا ہے جس سے ہم سب متاثر ہو رہے ہیں یہاں تک کے ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ نوجوان بھی اس سے متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم اور ان نوجوانوں کے والدین ان کو نہ صرف تعلیم یافتہ بنائیں بلکہ ایک متوازن شخصیت تعمیری شہری اور مستقبل کا لیڈر بھی بنائیں۔ نوجوان اپنی ذہانت، مہارت اور لیاقت سے پاکستان کے لئے حیران کن کارنامے انجام دے سکتے ہیں جس طرح سے پاکستان محفوظ ہو رہا ہے یہ ضروری ہے کہ ذہین نوجوانوں کو ملک میں محفوظ بنائیں کیونکہ پاکستان کو دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ان کی ضرورت ہے۔ اس سے قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کا سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ داعش نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے اور شدت پسند تنظیم بھرتی کے لیے نئی نسل کو ہدف بنا رہی ہے۔ نوجوانوں کو دہشت گردی سے بچانا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ آپریشن رد الفساد کا مقصد ملک میں کیے گئے تمام آپریشنز کے مقاصد کا حصول اور ملک میں امن و استحکام قائم کرنا ہے، اس آپریشن کا ایک مقصد معاشرے سے شدت پسندی کا خاتمہ بھی ہے۔ ترجمان آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اس مقصد کا حصول اس لیے بھی ضروری ہوگیا ہے کہ کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اب داعش اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے یوئے نوجوان نسل کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ʼریاست کی حیثیت سے یہ ہماری مشترکہ اور انفرادی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو اس خطرے سے بچائیں، اس عمل کے دوران خطرے کی نشاندہی اور اس حوالے سے جوابی اقدامات اٹھانا شامل ہیں۔ ترجمان آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دیگر لوگوں کے ساتھ ساتھ ہماری کامیابیاں نوجوانوں کی ہی مرہون منت ہیں، ʼوردی میں ملبوس پاکستانیوں کی جانب سے دی گئی قربانیوں میں سے 90 فیصد نوجوان سپاہیوں اور افسران کی ہیں۔ سیمینار کے اختتام پر آرمی چیف نے مقررین کو خصوصی شیلڈز بھی پیش کیں۔ ان مقررین میں ڈاکٹر شعیب سڈل، طالبہ حریم ظفر، فرخ سلیم، غازی صلاح الدین، ڈاکٹر مختار احمد اور پروفیسر رفیق اختر شامل تھے۔