ٹرمپ کا دورہ سعودی عرب‘ماضی کی حکمت عملی جاری رہے گی
| |
Home Page
منگل 26؍شعبان المعظم 1438ھ 23 مئی 2017ء
May 19, 2017 | 12:00 am
ٹرمپ کا دورہ سعودی عرب‘ماضی کی حکمت عملی جاری رہے گی

Todays Print

نیویارک(تجزیہ:عظیم ایم میاں)امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ سعودی عرب میں ہونے والی کانفرنس میں  امریکی اتحادیوں کیلئے نیاایجنڈااورنئی شرائط کے ساتھ شرکت کریں گے اورمسلم ممالک سے تعلقات کے حوالے سے امریکا کی ماضی کی حکمت عملی جاری رہے گی ‘ داخلی بحرانوں میں الجھے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے کوسٹ گارڈز افسروں کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنی تقریر میں یہ واضح کیا ہے کہ ان کے دورہ سعودی عرب کا مقصد مسلم ممالک کے حکمرانوں کو انتہا پسند اسلام کے خلاف متحد ہوکر جنگ لڑنے کی تلقین کرنا ہے جبکہ دورہ اسرائیل کا ایجنڈا اسرائیل کے استحکام، سلامتی اور اسرائیل۔ امریکا اتحاد کو مزید مضبوط بنانا ہے جبکہ اٹلی میں پوپ سے اظہار عقیدت اور اٹلی کی قیادت سے ملاقاتوں کے بعد برسلز میں نیٹو کے اتحادی ممبران ممالک سے مذاکرات ہوں گے‘ صدر ٹرمپ نے کسی ملک کا نام لئے بغیر یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایسے اتحادیوں کی تلاش میں ہیں جو صرف ہم سے بہت کچھ لیکر ہمارے ساتھ ملکر کام کرسکیں‘ہم اُن کیلئے کچھ کریں تو وہ بھی ہمارے ساتھ اتحاد کرکے کام کرسکیں صرف ہم سے لینے پر اکتفا نہ کریں‘ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میڈیا اُن کے ساتھ جو بُرا سلوک کرتا چلا آرہا ہے اس کے باعث وہ امریکی تاریخ کے سب سے زیادہ زیادتیوں کے شکار صدر ہیں‘ صدر ٹرمپ کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جنرل میک ماسٹر بھی دوبار اپنی بریفنگ کے ذریعے صدر ٹرمپ کے پہلے غیر ملکی دورہ پر امریکی میڈیا کی توجہ مرکوز کرانے کی کوشش کرچکے ہیں تاکہ یکے بعد دیگرے امریکا میں روس، ایف بی آئی اور دیگر معاملات میں صدر ٹرمپ کو درپیش واٹر گیٹ طرز کے بحرانوں سے توجہ ہٹائی جاسکے لیکن صدر ٹرمپ اور اُن کے معاونین کو ابھی تک اس میں کامیابی نہیں ہوسکی بلکہ بحران زیادہ شدت اختیار کرتا نظر آرہا ہے جس پر پریشانی کے شکار صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہنا شروع کردیا ہے کہ امریکی نظام کے چوتھے ستون یعنی امریکی میڈیا نے انہیں صدر منتخب نہیں کیا بلکہ ووٹرز نے منتخب کیا ہے لہذا انہیں اس میڈیا کی پرواہ نہیں۔ اس تناظر میں عالمی مبصّرین صدر ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب پر نظر رکھے ہوئے ہیں‘ اس بات کا خدشہ ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے دورہ میں اپنے بیان، اقدامات ، عوامی اور خفیہ مذاکرات کے ذریعے بیرونی دنیا بالخصوص مسلم دنیا میں کوئی جنگی یا سیاسی بحران پیدا کرکے امریکی عوام کو قومی سلامتی اور امریکی مفادات کے نام پر متحد ہونے کی اپیل کرسکیں۔ اس طرح وہ امریکی داخلی سیاست میں پیدا شدہ بحران اور اسکینڈلز کو پس پشت ڈالنے کی کوشش کرسکیں۔ انتشار، دبائو اور دہشتگردی کے شکار مسلم ممالک کے حکمراں سعودی عرب کانفرنس میں شرکت کیلئے امریکی مطالبات کے بارے میں تیاری کرکے آئیں۔