کلبھوشن کے حوالے سے پاکستان نے انتہائی کمزور کیس پیش کیا، ایازپلیجو
| |
Home Page
ہفتہ 27 شوال المکرم 1438ھ 22 جولائی 2017ء
May 19, 2017 | 12:00 am
کلبھوشن کے حوالے سے پاکستان نے انتہائی کمزور کیس پیش کیا، ایازپلیجو

Todays Print City News

حیدرآباد ( بیورو رپورٹ) قومی عوامی تحریک کے صدر ایاز لطیف پلیجو نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے جیورسڈکشن نہ ہونے کے باوجود کلبھوشن یادیو کی پھانسی روک کر دہشت گردی کو فروغ دیا ہے،جب اجمل قصاب کو بمبئی حملوں کے الزام میں بھارت میں پھانسی دی جاسکتی ہے اور اس پھانسی کو قانون کی عالمی عدالت نہیں روکتی،اگرہزاروں پاکستانی گوانتانا مو بے جیل میں رہ سکتے ہیں،ڈاکٹر عافیہ سالوں سے امریکا کی قید میں رہ سکتی ہے،انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس اس سلسلے میں کوئی مداخلت نہیں کرتی تو پھر کلبھوشن یادیو کیس میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے کس طرح مداخلت کی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پرنس ٹاؤن میں قومی لائیرز فورم کے وفد سے گفتگو میں کیا۔ ایاز لطیف پلیجو نے مزید کہا کہ پاکستان نے انتہائی کمزور کیس پیش کیا، پاکستان کے وکلا کی انٹرنیشنل ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کے سب کلاز ایک کی کوئی تیاری نہیں تھی،عوام کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو رہے ہیں کہ پاکستان حکومت نے مارچ 2017کے آخری ہفتے میں عالمی عدالت کے تمام فیصلوں کو قبول کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے اور اس کے ٹھیک ڈیڑھ مہینے بعد انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے پاکستان کے فیصلوں میں مداخلت کرنا شروع کردی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بتایا جائے کہ کیا کلبھوشن یادیو کو بچانے میں کونسیاندرونی طاقتیں ملوث ہیں؟ ایک ایساشخص جو بغیر پاسپورٹ کے دہشت گرد کارروائیوں کے لئے کسی دوسرے ملک میں داخل ہو تو اس جاسوس اور دہشت گرد کو ویانا کنونشن کی سپورٹ کس طرح حاصل ہوئی،پاکستان کی خارجہ اور قانون کی وزارت نے مارچ میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے معاہدے پر دستخط کرنے کے فوری بعد کلبھوشن یادیو کیس کے حوالے سے پہلے سے تیاری کیوں نہیں کی۔