خواتین آج بھی غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، سماجی رہنما
| |
Home Page
منگل 26؍شعبان المعظم 1438ھ 23 مئی 2017ء
May 19, 2017 | 12:00 am
خواتین آج بھی غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، سماجی رہنما

Todays Print City News

حیدرآباد ( بیورو رپورٹ) خواتین کے حقوق کے لئے کوشاں اور سماجی تنظیموں کے رہنماؤں نے لڑکیوں کی کم عمر میں جبری شادی اور خواتین پر تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلہ سازی میں جب تک خواتین کی شراکت کو تسلیم نہیں کیا جاتا تب تک خواتین کو حقوق حاصل نہیں ہوسکتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد پریس کلب میں سماجی تنظیم کی جانب سے خواتین پر تشدد کے خلاف اور خواتین کے حقوق سے متعلق منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں خواتین نے بڑی تعداد میںشرکت کی۔ اس موقع پر ایم پرکاش،سماجی رہنما ڈاکٹر اشوتھاما، پنہل ساریو، زیب النساءملاح،منظور ابڑو، رحیماں سولنگی اور دیگر نے کہا کہ سندھ کے اندر خواتین آج بھی غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ان کو پرانی رسم ورواج کے تحت حقوق سے محروم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قوانین تو بنتے ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا،ایوانوں میں بھی وڈیرے اور جاگیردار بیٹھے ہوئے ہیں جو نہیں چاہتے کہ آج کی عورت آزاد سوچ کی مالک ہو انہوں نے کہا کہ جب تک فیصلہ سازی کے عمل میں عورت کو شامل نہیں کیا جاتا تب تک عورت اپنے حقوق حاصل نہیں کرسکتی۔ مقررین نے مزید کہا کہ شعور پیدا کرنے کے لئے خواتین میں تعلیم کو عام کرنا لازمی ہے،آج صورتحال یہ ہے کہ اسمبلیوں میں خواتین کی آواز کو دبایا جارہا ہے جو سراسر ظلم و زیادتی ہے۔