پروفیسر انور کے قاتل گرفتار نہ ہوئے تو شدید عوامی ردعمل آئیگا، نثار احمد
| |
Home Page
جمعہ 26 شوال المکرم 1438ھ 21 جولائی 2017ء
May 19, 2017 | 12:00 am
پروفیسر انور کے قاتل گرفتار نہ ہوئے تو شدید عوامی ردعمل آئیگا، نثار احمد

Todays Print City News

باغ( نمائندہ جنگ)ڈی ایس پی شوکت مرزا کی موجودگی میں پروفیسر انور کے قاتل بے نقاب نہیں ہو سکتے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر ،آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری پولیس کی غفلت اور جانبداری کا نوٹس لے ۔اگر 10روز تک پروفیسر انور کے قاتل گرفتار نہ ہوئے تو شدید رد عمل ظاہر کرینگے۔ حالات کے خراب ہونے کی ذمہ داری پولیس پر عائد ہو گی ۔8مئی کو ہاڑی گہل کے مقام پر درد ناک اور افسوس ناک واقع ہوا اُس دن لوگوں میں بہت اشتعال پھیلا ہوا تھا ۔بعض لوگوں نے پروفیسر انورکے قتل کو دو برادریوں کے درمیان جنگ بنانے کی کوشش کی جس کو بڑی مشکل سے کنٹرول کیا گیا ۔ 8مفرور ملزمان کو 2ہفتے گزرنے کے باوجود بھی گرفتار نہیں کیا گیا ۔ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی ضلع باغ نثار احمد شائق نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر انکے ہمراہ لیاقت انور ،خورشید چغتائی ،عامر عثمانی اور دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ SPموسیٰ خان ملزمان کی پشت پنائی کر رہا ہے ۔اسکے دو سگے بھائی اس کیس میں ملوث ہیں ملزمان اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور انکو بوجہ گرفتار نہیں کیا جا رہا اس سلسلہ میں ہم نے ڈی آئی جی ریجن ،آئی جی آزاد کشمیر ،وزیر اعظم آزاد کشمیر سے بھی رابطہ کیا تھا اور انہوں نے ملزمان کی جلد گرفتاری کا وعدہ کیا تھا ۔لیکن بد قسمتی سے اس کیس کی تفتیش درست نہیں کی جا رہی ۔ڈی ایس پی شوکت مرزا جانبدارانہ کردار ادا کر رہے ہیں ۔ہم ان سے درست تفتیش کی امید نہیں شوکت مرزا کا تبادلہ ہر حال میں ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس جب تک درست تفتیش نہیں کریگی معاملہ حل نہیں ہو گا ۔تفتیش میں پولیس کو اگر کوئی رکاوٹ ڈالتا ہے تو اس کے لیے وہ ہمیں بتائے ہمارا مطالبہ ہے کیا ہے کیس کے حقائق کو جلد منظر عام لا کر ملزمان کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔اس سلسلہ میں لواحقین نے چیف آف آرمی سٹاف کو بھی انصاف کے حصول کے لیے ایک درخواست دے رکھی ہے ۔انہوں نے انتظامیہ اور حکومت کو 10دن کی مہلت دی ہے کہ ان ایام کے اندر مجرمان کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے ۔بصورت دیگر باغ کے پر امن حالات خراب ہونے کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی اور ہم انصاف کے حصول کے لیے کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کرینگے ۔انہوں نے آئی جی پولیس سے اپیل کی کہ باغ کے عوام کو موجودہ جانبدار قائمقام SPسے نجات دلوا کر مستقبل ایس پی تعینات کیا جائے کیونکہ SPکامران علی ٹریننگ پر گئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے باغ میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔