فاٹا انضمام ،آئینی ترمیم مؤخر کر ناقبائل کی امنگوں کا خون کرنا ہے، میاں افتخار
| |
Home Page
جمعرات 04 شوال المکرم 1438ھ 29 جون 2017ء
May 19, 2017 | 12:00 am
فاٹا انضمام ،آئینی ترمیم مؤخر کر ناقبائل کی امنگوں کا خون کرنا ہے، میاں افتخار

Todays Print City News

پشاور( نیوز ڈیسک ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے ایک بار پھر پختونوں کو پس پشت ڈال کر اپنی کرسی بچانے کی کوشش کی ہے ۔فاٹا انضمام کے حوالے سے آئینی ترمیم مؤخر کر کے 80فیصد قبائلیوں کی امنگوں اور ارمانوں کا خون کر دیا ہے ، صوبائی حکومت کو عوامی مسائل کا ادراک نہیں اور موجودہ دور میں تمام محکموں کے ملازمین چار سال سے سڑکوں پر ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جناح پارک میں آل گورنمنٹ ایمپلائیز کوآرڈینیشن کونسل کے احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا، تمام محکموں خصوصاً محکمہ ہیلتھ کے ملازمین مظاہرے میں شریک تھے ، میاں افتخار حسین نے احتجاج کرنے والوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے پہلے سی پیک کے ایشو پر اے پی سی میں مغربی روٹ کے حوالے سے وعدہ کیا جس سے وہ بعد میں مکر گئے اور اب فاٹا کے صوبے میں انضمام پر آئینی ترمیم مؤخر کر دی ،انہوں نے کہا کہ ملک کا وزیر اعظم بھی اب قابل بھروسہ نہیں کیونکہ وہ پختونوں کے معاملات پر ہمیشہ اپنے وعدوں سے مکر جاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم مؤخر کرنے کا فیصلہ پری پلان لگتا ہے اور وزیر اعظم کریڈٹ بھی لینا چاہتے ہیں اور کام بھی نہیں کرنا چاہتے ،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ناکام ہو چکی ہے ۔صوبے کی تاریخ میں یہ پہلی حکومت ہے جس کے دور میں ملازمین سمیت سرکاری افسر بھی اپنے حق کیلئے سڑکوں پر آئے ،اور یہ سلسلہ گزشتہ چار سال سے جاری ہے ، انہوں نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں عوامی مسائل سے غافل ہیں ، عمران خان وزارت عظمی تک پہنچنے کیلئے خیبر پختونخوا کے عوام کا سہارا لئے ہوئے ہیں جبکہ نواز شریف اپنی کرسی بچانے کے چکر میں ہیں انہیں قومی معاملات سے کوئی سروکار نہیں،انہوں نے مظاہرین کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا تاہم انہوں نے کہا کہ ہم اس اہم ایشو پر سیاست نہیں کرنا چاہتے ، انہوں نے کہا کہ اگر حکومت آپ کے مسائل حل کر دے تو ہم اس کا شکریہ ادا کریں گے البتہ مسائل حل نہ ہونے تک ملازمین کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت انصاف سے کام لے اور ان ملازمین کی ریگولر حیثیت ختم کر کے انہیں ڈیلی ویجز پر بھرتی کرنے سے گریز کرے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت اے این پی دور کے منصوبے مکمل کر لیتی تو لوڈ شیڈنگ پر قابو پایا جا سکتا تھا ، انہوں نے لوڈشیڈنگ کے خلاف پی ٹی آئی کے مظاہرے پر تعجب کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت مسائل حل کرنے کی بجائے خود سڑکوں پر مظاہرے کر رہی ہے ۔