تعلیمی فروغ کی بجائے نوجوانوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی ایمرجنسی نافذ ہے
| |
Home Page
پیر 02 رمضان المبارک 1438ھ 29 مئی 2017ء
May 19, 2017 | 12:00 am
تعلیمی فروغ کی بجائے نوجوانوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی ایمرجنسی نافذ ہے

Todays Print City News

کوئٹہ (پ ر) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کی خواتین اراکین پروفیسرشہناز بلوچ ، ثانیہ حسن کشانی ، شکیلہ نوید دہوار ، جمیلہ بلوچ نے طلباء تنظیموں کی جانب سے لگائے جانیوالے احتجاجی کیمپ اور حکومتی بے حسی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 4سال سے بلوچستان میں تعلیمی ایمر جنسی نافذ ہے اور بجٹ کا 24فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کرنے کے دعوے کئے جارہے ہیں تعلیمی فروغ کے بجائے نوجوانوں کو تعلیم سے دور کرنے کی ایمر جنسی نافذ کی جا چکی ہے فیسوں میں کئی سو فیصد اضافہ قابل مذمت ہے حکومتی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ موجودہ حکومت کے اتحادی بھی بھوک ہڑتالی کیمپ میں جا کر اظہار یکجہتی کر رہے ہیں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومتی اراکین بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنے کی بجائے طلباء کے جائز مطالبات کو تسلیم کروا کر ہڑتال ختم کرواتے اس سے پہلے بھی وڈھ اور سبی میں یونیورسٹیز کے قیام میں روڑے اٹکائے گئے اکیسویں صدی میں صرف بیانات سے عوام کو بیوقوف بنانا کسی صورت ممکن نہیں بلوچستان نیشنل پارٹی بلوچستان کی سب سے بڑی سیاسی قومی جمہوری جماعت ہونے کے ناطے طلباء کے مسائل کے حل کیلئے ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کرتی رہے گی پارٹی قائدسردار اختر جان مینگل کی قیادت وقت و حالات کی ضرورت ہے پارٹی طلباء سمیت تمام طبقات کے جائز مطالبات کو تسلیم کروانے میں ہر فورم پر ان کے ساتھ ہے ۔