Tahir Sarwar Mir - …ایک اور ڈومور - column - 2017-05-20
| |
Home Page
اتوار یکم رمضان المبارک 1438ھ 28 مئی 2017ء
طاہر سرور میر
May 20, 2017 | 12:00 am
…ایک اور ڈومور

Aik Aor Domore

بیر سٹر چوہدری اعتزاز احسن میرے فیورٹ ہیں۔ شاعر ہونے کے ناتے رومانٹک ہیں اور خواب بھی دیکھتے ہیں ۔اسی لئے تو کہتے ہیںکہ ’’ریاست ہوگی ماں کے جیسی ‘‘۔چند سال پہلے ایک ٹی وی شو میں ان سے سوال کیاگیاکہ آپ اگر ہالیڈیز گزارنے چاند پر جائیں تو کسی سیاستدان اور اداکارہ نرما میں سے کس کا انتخاب کریں گے؟مجھے یاد ہے بیرسڑصاحب نے اداکارہ کی طرف جھوک کھاتے ہوئے کہاتھاکہ ’’چاند پر جانا ہوتو پھر میں ساتھی کے طور پر نرما کا انتخاب ہی کروں گا‘‘۔ پتنگ بازی کی اصطلاح میں ’’جھوک مارنا‘‘ سے مراداپنی پتنگ کو دوسرے کی پتنگ کے اوپر گرانا ہوتا ہے ۔جس کا مقصد مخالف کیساتھ پیچ لڑا کر اس کی پتنگ کا’ بوکاٹا‘ مقصود ہوتاہے۔چوہدری اعتزاز مجھے اسلئے بھی پسند ہیں کہ سیاست میں ہمیشہ فرنٹ فُٹ پرکھیلتے ہیں ۔ بیرسٹر صاحب ان دنوں ہر چھوٹے بڑے ٹی وی چینل پر جلوہ گر ہوکر سرعت کے ساتھ پاناما اور نیوز لیکس کے معاملےپر کھل کا اظہار خیال کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاناما کا فیصلہ جے آئی ٹی کے بجائے عدالت میں ہونا چاہئے تھا۔نیوز لیکس کے معاملے میں بھی قصور واران کو بچایاگیاہے۔ چوہدری اعتزاز کا کہنا ہے کہ جی جی بریگیڈ ( یعنی گالم گلوچ بریگیڈ) چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ ہم نے تین پشتوں کا حساب دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک عدد قطری کے خط کے سوا کوئی ثبوت پیش نہیں کیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ میاں نوازشریف نے 1994ءسے لیکر1997ءتک صر ف 477روپے ٹیکس جمع کرایا اور اب کہاجارہاہے کہ اثاثوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے تو ثبوت کیسے پیش کئے جائیں گے۔
اعتزاز احسن ایک صاحب رائے سیاستدان ہیںاکثر ایسا ہوتاہے کہ ان کی رائے اپنی پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو باڈی سے بھی مختلف ہوتی ہے۔یہ بھی پیپلز پارٹی میں ہی ممکن ہے وگرنہ دوسری کسی پارٹی کا ممبر ایسا کرے تو اسے ’’سیاسی سنگسار ‘‘ کردیا جاتاہے۔سنگسار اور سینٹرل ایگزیکٹو باڈی سے یاد آیا ’’نون لیگ فیم‘‘ ظفر علی شاہ ایک ٹی وی چینل پر بتارہے تھے کہ ساڑھے تین سال ہوگئے ہماری پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس نہیں ہوا۔ظفر علی شاہ صاحب ان دنوںنون لیگ میں کھڈے لائن لگے ہوئے ہیں کبھی یہ عالم تھاکہ شاہ صاحب شریفوںکی سیاست اور حصول اقتدار کے مقدمہ وار تھے۔ ظفر علی شاہ کیس میں اگرچہ جنرل مشرف کی ’’بارہ اکتوبری ‘‘ کو آئینی تحفظ دیتے ہوئے کہاگیاتھاکہ تین سال تک اس ملک کا نظم ونسق سنبھالیں اور الیکشن کرائیں۔یہ حقیقت بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ ظفر علی شاہ کیس کا فیصلہ اعلیٰ عدلیہ کے 12جج صاحبان نے سنایا تھا جن میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی ایک جج کی حیثیت سے شریک تھے۔پیپلز پارٹی کہتی ہے کہ شریفوں کو عدالتوں سے ہمیشہ خوش خبریاں ملتی رہیں لیکن ظفر علی شاہ کیس میںایسانہیں ہوا تھا شاید اسلئے شاہ صاحب کھڈے لائن لگے ہوئے ہیں ۔ہم دیکھتے ہیں کہ جنرل مشرف کے دور میں نوازشریف پر آوازے کسنے والے بڑے بڑے ’’ڈنئیل‘‘نوازحکومت کو بڑے ’’عزیز‘‘ ہیںلیکن ظفرعلی شاہ جیسے مخلص ساتھیوں کو نظر انداز کردیا گیا۔سارے ہم جولی پرویز رشید جیسے نہیں ہوتے جو ’’نیک پروین ‘‘ کی طرح دکھ اور آلام تو سہتے ہیں لیکن شکوہ نہیں کرتے، کچھ شاہ جی جیسے بھی ہوتے ہیں جو ریٹنگ کے متلاشی انکر پرسنز کے ہتھے چڑھ کر ایسی باتیں کرجاتے ہیںجن سے ان کی قیادت کے سیاسی دامن پر چھینٹے دکھائی دیتے ہیں ۔نجم سیٹھی کہاکرتے ہیں کہ نون لیگ مشکل میں ہوتو پاوں پڑتی ہے اورجب اس کی سیاسی ساکھ مضبوط ہوتو سیدھا گلے پڑتی ہے ۔گزشتہ دنوں جب ایک ٹوئٹ واپس لی گئی تو یہ کہا گیاکہ فائینل اتھارٹی وزیر اعظم ہیں تو مجھے نون لیگ کے ایک ہمدرد دواخانہ ٹائپ انکرپرسن نے کہاکہ ’’اب نون لیگ کے ’’وابستگان‘‘ کا حال دیکھنا ان سے کوئی سیدھے منہ بات نہیں کرے گا‘‘۔
اپوزیشن اور میڈیا نے سوال کیاکہ چین اور پاکستان کے مابین ’’نئی معاشی رشتہ داری ‘‘ کے تحت کیاکچھ طے پایاہے اس کی تفصیل قوم کے سامنے لائی جائے؟اس ضمن میں خادم اعلیٰ کا جواب سامنے آیا جس پر برادرم حسن نثار نے انہیں شہنشاہ ِجذبات کے خطاب سے نوازا ہے ۔شہبازشریف صاحب فرماتے ہیںکہ… چین تعاون کی قیمت نہیں مانگتا،نہ ڈومور کی تکرار کرتاہے نہ فوجی اڈے مانگتا ہے… خادم اعلیٰ کے اس وضاحتی بیان کو جذباتی اسلئے کہاجارہا ہے کہ قوموں اور ملکوں کے مابین رشتے مفادات ،امکانات اور ممکنات کے تابع ہوتے ہیں اگر اس رشتہ داری میں مذہبی ہم آہنگی اور افسانوی بھائی چارے کے کوئی نمبرز ہوتے تو افغانستان اور ایران سے بھی ہمارے تعلقات آئیڈیل ہوتے اور ایک عرب ملک سے ہزاروں پاکستانیوں کو بے روزگار کرکے نکالانہ جاتا اور اب ترکی سے بھی پاکستانیوں کو نکالاجارہاہے ۔
خادم اعلیٰ کوڈومور اور فوجی اڈوں کی بات کرنے کی ضرورت اسلئے محسوس ہوئی کہ چین سے قبل ہم امریکہ کے معاشی پلو سے بندھے ہوئے تھے۔اس معاشی رکھشا بندھن سے آزادی تو نصیب نہیں ہوئی لیکن اب ہم نے چین کے ساتھ بھی ’’کمیٹی ‘‘ ڈال لی ہے اور روس کو بھی ہمسایہ مان کر اس سے لین دین شروع کرلیاہے۔اپنے تمام ہمسایوں سے دوستی اور بھائی چارہ جیسے تعلقات استوار کرنے کی ضرورت تو 70سال سے تھی لیکن یہاں تک پہنچنے کے لئے ہم نے دہائیاں ضائع کردیں۔اس سدابہار محاورے سے قوم کی تھراپی کرنا چاہوں گا انٹرنیشنل افیئرز میں جس کی اہمیت اس طرح نہیں جس سے ہم اپنی سنگین سے سنگین غلطی سے گلو خلاصی کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں…صبح کا بھولااگر شام کر گھر واپس آجائے تو اسے بھولانہیں کہتے…پاکستان 22کروڑ لوگوں کی مارکیٹ ہے ،اس میں 6کروڑ لوگ ایسے ہیں جو اشیائے ضرورت خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔چین دنیا کے تجارتی محور تک پہنچنے کیلئے 12ہزار کلومیٹر کا لمبا چکر کاٹتاہے ۔مستقبل قریب میں یہ سفر صرف ڈھائی ہزار کلومیٹر تک سکڑ جائے گاجسے پاک چین اقتصادی راہداری ( سی پیک) کانام دیاگیاہے۔اس سے یقینااہلیان وطن کو بھی فائدہ ہوگا مگر اس اقتصادی منصوبے کو ’’جنت نظیر معاشی منصوبہ ‘‘قرار دینا بقول غالب دل کے بہلانے کو اچھا خیال ہی قرار دیا جا سکتا ہے ۔

.