| |
Home Page
2 شعبان 1438ھ 29 اپریل 2017ء
ڈاکٹر صفدر محمود
April 28, 2017
کرپشن کا سانحہ کب برپا ہوا؟

جب سے سپریم کورٹ کے دو سینئر ترین ججوں نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ وزیراعظم صادق و امین نہیں رہے، میڈیا میں صادق و امین کے تصور پر بحث چھڑ گئی ہے۔ ایک صاحب کا خیال ہے کہ صادق و امین کی تعریف وسیع و عریض ہے اوراس کا اطلاق صرف مالی بددیانتی، اقربا پروری، قومی وسا ئل کے ضیاع اور عہدے سے مفادات حاصل کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس کا اطلاق ذہنی اور...
April 25, 2017
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے

دانا کہتے ہیں کہ زندگی کی کتاب علم کی کتابوں پر بھاری ہوتی ہے اور زندگی سب سے بڑا استاد ہے۔ سچ یہ ہے کہ نہ یہ قول سب پر اپلائی ہوتا ہے اور نہ ہی زندگی ہر کسی کے لئے سب سے بڑا استاد ہوتی ہے۔ زندگی استاد اُن کے لئے ہوتی ہے جو اپنے تجربات سے سیکھتے، احوال پر غور کرتے، تقاضوں اور تجربات کے سانچے میں ڈھلتے اور مشاہدات کے خزانے اکٹھے کرتے...
April 23, 2017
اب تو ڈر اتر چکا

آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن میرا تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ نیم خواندگی بھی ایک طرح کی فائدہ مند شے ہے۔ جاہل تو بیچارا کسی کام کا نہیں ہوتا اور زیادہ پڑھا لکھا یعنی عالم و فاضل شخص عام طور پر زندگی بھر تشکیک کا مریض رہتا ہے یعنی وہ شک کی منزل سے آگے نکل ہی نہیں سکتا، اگر عالم و فاضل شخص شک کی حالت سے نکل کر یقین کی منزل پر پہنچ جائے تو...
April 21, 2017
الفاظ کی حرمت

الفاظ بظاہر بے جان ہوتے ہیں لیکن دراصل الفاظ نہایت جاندار ہوتے ہیں اور سخت جان بھی۔ جاندار الفاظ تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں اور بعض اوقات تاریخ بنا جاتے ہیں جبکہ بے جان الفاظ ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ جاندار اور سخت جان الفاظ وہ ہوتے ہیں جنہیں ہم حرمت والے الفاظ کہتے ہیں، جن کے انصاف، تقدس اور روشنی کو زمانہ تسلیم کرتا ہے۔ یہ بھی اپنی جگہ...
April 18, 2017
جھوٹ کی یلغار

چھوٹے موٹے سانحات کی بات چھوڑیئے۔ آپ غور کریں تو محسوس کریں گے کہ ہمارے ساتھ بحیثیت قوم جو سب سے بڑا سانحہ اور ٹریجڈی ہوئی ہے وہ ہے ہماری نگاہوں کے سامنے سچ کا بے رحمانہ قتل سیاست، تجارت، تعلیم، مذہب حتیٰ کہ زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے شعبے پہ نظر ڈال لیں تو آپ کو تجربہ ہو گا کہ ہماری قومی اور نجی زندگی کے اکثر شعبوں سے سچ کو دیس نکالا...
April 16, 2017
لاعلمی قابل معافی ہے لیکن بدنیتی نہیں؟

لاعلمی قابل معافی ہے لیکن بدنیتی ایسا جرم ہے جس کی سزا دونوں جہانوں میں ملتی ہے۔ جب ایک علم و فضل کا دعویٰ کرنے والا شخص جو مورخ ہونے کا دعویٰ بھی کرے اتنی بنیادی اور عام معلومات سے انکار کرے اور ببانگ دہل تاریخی حقائق کو مسخ کرے تو اس کا رویہ لاعلمی کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ خبث باطن کہلاتا ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ملک میں...
April 14, 2017
جسے چاہے وہ عطا کرے

میں نے گزشتہ کالم میں علامہ اقبالؒ کے حوالے سے چند روحانی وارداتوں کا ذکر کیا تھا جو علامہ اقبالؒ کی اکلوتی بیٹی اور نواسوں تک علامہ اقبالؒ کے خادم خاص علی بخش کے ذریعے منتقل ہوئیں۔ سوچا تھا کہ آج سیاست پر فقرے بازی کروں گا لیکن ایک قاری کے فون نے قلم کا رخ پھر اسی جانب موڑ دیا جہاں سے یہ سلسلہ شروع ہوا تھا۔ ان صاحب کا کہنا تھا کہ...
April 11, 2017
روحانیت۔ افسانہ اور حقیقت؟

غور کیجئے تو محسوس ہو گا کہ افسانہ بھی زندگی کا حصہ ہے اور حقیقت بھی زندگی کا پہلو ہے۔ افسانے اور حقیقت کے درمیان محض ایک پردہ حائل ہوتا ہے۔ اگر وہ پردہ اٹھ جائے تو افسانہ حقیقت بن کر سامنے آ جاتا ہے۔ مجھے علامہ اقبال سے طالب علمی کے زمانے سے عقیدت رہی ہے۔ اس لئے کالج اور یونیورسٹی کے دور میں میں کلام اقبال اور سوانح اقبال شوق سے...
April 07, 2017
مستقبل کی آنکھ

کچھ باتیں احساس اور وجدان سے طلوع ہوتی ہیں اور کچھ باتیں مطالعے، غور وفکر اور تاریخی شعور سے پھوٹتی ہیں۔آج آپ سے دو باتیں کہنی ہیں لیکن اس سے قبل یہ عرض کرلوں کہ بعض معاملات اور آنے والے واقعات کو کبھی کبھی انسان محسوس توکرلیتا ہے لیکن اس احساس کو صحیح لفظوں میں ڈھال نہیں سکتا۔ مسلمان ممالک کے فوجی اتحاد.....کسی حد تک نامکمل...
April 04, 2017
پاکستان کی بنیاد اور قائداعظم پر حملے؟

ہماری بدقسمتی کہ پاکستانی لکھاریوں میں ایک ایسا گروہ موجود ہے جسے پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو تہہ و بالا کرنے، نوجوان نسلوں کے ذہنوں میں بدگمانیوں کا زہر گھولنے اور قائداعظمؒ کے کردار کو مشکوک بنانے پر مامور کر دیا گیا ہے..... حیرت کی بات نہیں کہ انہیں ہندوستان کی محبت اور سرپرستی میسر ہے اور ہندوستانی حکومت انہیں خطابات و...
April 02, 2017
ایک فکر انگیز خط

گزشتہ دنوں قلبی و روحانی کیفیت کے حوالے سے میرا کالم ’’کیفیت‘‘ شائع ہوا تو قارئین کی جانب سے کئی خطوط موصول ہوئے۔ سلطان احمد صاحب کا خط آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔ یہ فکر انگیز اور مدلل خط وسیع تناظر میں لکھا گیا ہے۔ امید ہے آپ کو پسند آئے گا۔’’آپ نے 12مارچ 2017کے کالم’’کیفیت‘‘ میں وحدت الوجودی تصوف کے پیروکار کسی بزرگ کے...
March 31, 2017
یہ بدنیتی ہے یا تحقیق کا فقدان؟

نیتوں کا حال اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ جانتا ہے البتہ قرائن سے تھوڑا بہت اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ میں فیصلہ سنانے کی بجائےمعاملہ قارئین پر چھوڑتا ہوں۔ قارئین خود فیصلہ کرلیں کہ یہ خبث باطن ہے یا مخصوص ایجنڈا ہے یا پھر مسلم و تحقیق کا فقدان ہے۔ خبث باطن اور ایجنڈے کا آپس میں گہرا تعلق ہوتا ہے اور مخصوص ایجنڈے کے پس پردہ کچھ محرکات ہوتے...
March 26, 2017
خوشی؟

سوچتا ہوں کہ اگر خوشی۔ حقیقی مسرت، خریدی جاسکتی اور دکانوں پر دستیاب ہوتی تو اس پر صرف دولت مندوں کی اجارہ داری ہوتی۔ یعنی خوشی صرف رئوسا کی لونڈی اور گھر کی باندی ہوتی اور غریب گھرانے اس سے محروم رہتے۔ قدرت اولاد آدم سے بے انصافی نہیں کرتی ا س لئے قدرت کے عطیے سب انسانوں کے لئے ہوتے ہیں۔خوشی قدرت عطیہ ہے اس پر کسی کلاس، طبقے یا...
March 24, 2017
چپ ہوں تو کلیجہ جلتا ہے بولوں تو تیری رسوائی ہے

کل 23مارچ تھی اس لئے قلم اس موضوع سے اِدھر اُدھر ہٹنے کو تیار نہیں حالانکہ مجھے ذاتی طور پر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قوم کا معتدبہ حصہ چودہ اگست، پچیس دسمبر اور تئیس مارچ جیسے تاریخی موضوعات میں خاصی حد تک دلچسپی کھو چکا ہے۔ اس کا اندازہ الیکٹرانک میڈیا کے رویے سے بھی ہوتا ہے جو اب ان موضوعات کو واجبی سی اہمیت اور کوریج دیتا ہے۔...