Dr Shahid Hasan Siddiqui - Urdu Columns Pakistan | Jang Columns
| |
Home Page
منگل یکم ذیقعدہ 1438ھ 25 جولائی 2017ء
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی
July 13, 2017
روپے کی قدر میں کمی، پراسراریت اور اعتماد کا فقدان

یہ بات حیران کن ہے کہ 5 جولائی 2017ء کو انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی شرح مبادلہ گزشتہ روز کی سطح 104.90 روپے سے بڑھ کر 108.25 روپے ہوگئی یعنی روپے کی قدر میں 3.1 فی صد یا 3.35 روپے فی ڈالر کی زبردست کمی ہوئی۔ یہ بات بہرحال معنی خیز ہے کہ کھلی منڈی میں یہ کمی صرف 1.75 روپے فی ڈالر ہوئی۔ روپے کی قدر میں اچانک کمی کروا کر کچھ اداروں...
June 29, 2017
پاناما:خدارا! اصل کام بھی تو کریں

یہ قدرت کی عجب ستم ظریفی ہے کہ ایک طرف گزشتہ کئی ماہ سے سیاستدانوں، ریاست کے اہم اداروں، الیکٹرانک میڈیا اور اعلیٰ عدلیہ سمیت پوری قوم کی توجّہ پانامالیکس پر مذکور ہے اور وزیراعظم سے پوچھا جا رہا ہے کہ ان کے بچّوں نے ملک سے باہر جو جائیدادیں بنائی ہیں ان کیلئے ان کے پاس پیسہ کہاں سے آیا اور دوسری طرف 7؍دسمبر 2016کو صدر مملکت نے انکم...
June 16, 2017
18ویں ترمیم کی روح کے منافی صوبائی بجٹ

مالی سال2016-17کے اقتصادی سروے کے ابتدائی صفحات میں وزارت خزانہ نے اس بات کی تکرار کی ہے کہ اس مالی سال میں معیشت کی شرح نمو5.28فیصد رہی جو گزشتہ10برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔یہ بہرحال کوئی قابل ذکر کامیابی نہیں ہے کیونکہ اس مالی سال میں پاکستانی معیشت کی شرح نمو کا ہدف5.7فیصد تھا جو حاصل نہیں کیا جاسکا۔ یہی نہیں، اس مالی سال میں بھارت اور...
June 01, 2017
بجٹ ۔وہی چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے

وزیر خزانہ نے 2017-18کا جو بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے وہ بنیادی طور پر ان ہی خطوط پر وضع کیا گیا ہے جن کے نتیجے میں گزشتہ چار برسوں سے معیشت کی شرح نمو کے حکومت کے خود اپنے مقرر کردہ اہداف حاصل نہیں ہو سکے، برآمدات 2014سے مسلسل گرتی رہیں اور ٹیکسوں کی وصولی و بجٹ خسارے سمیت متعدد معاشی اہداف عملاً حاصل نہیں ہوسکے۔ بدقسمتی سے وہ...
May 18, 2017
سی پیک۔ تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے

چند روز بعد اگلے مالی سال کے وفاقی اور صوبائی بجٹ ایک ایسے موقع پر پیش کئے جائیں گے جب معیشت کے شعبے میں کچھ منفی رجحانات واضح طور پر نظر آرہے ہیں۔ 18؍ویں آئینی ترمیم اور ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے بعد صوبوں کو زیادہ خود مختاری حاصل ہوگئی ہے اور تعلیم و صحت کے شعبے بھی انہیں منتقل ہوگئے ہیں جبکہ وفاق سے انہیں زیادہ رقوم...
May 04, 2017
پاناما کیس، کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا

پاناما پیپرز کے منظر عام پر آنے، پاناما کیس کے مقدمے کی سپریم کورٹ میں سماعت اور اس کیس کا فیصلہ آنے کے بعد مدعی علیہان کچھ سائنس دانوں، کچھ ماہرین، اور الیکٹرانک میڈیا نے جو حکمت عملی تسلسل سے اپنائی ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ تو ملکی قوانین کے تحت ملک سے ناجائز دولت کے باہر جانے کا سلسلہ رکا ہے اور نہ ہی آنے والے برسوں میں...
April 20, 2017
ہمارا نظام بینکاری بھی گیم چینجر ہوسکتا ہے؟

پچھلی کئی دہائیوں سے مجموعی داخلی پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب سے پاکستان میں قومی بچتوں کی شرحیں انتہائی پست رہی ہیں جبکہ گزشتہ 13برسوں میں یہ شرح مزید گری ہے۔ مالی سال 2002-3ء میں بچتوں کی شرح 20.8فیصد تھی جو 2015-16ء میں گر کر 14.3فیصد رہ گئی۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ چین میں قومی بچتوں کا تناسب 46فیصد، تھائی لینڈ میں 33فیصد، بھارت میں...
April 06, 2017
تعلیم و صحت کے شعبے اور وفاقی و صوبائی بجٹ تجاویز

اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے تعلیم کے شعبے کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ تعلیم اہم ترین سرمایہ کاری ہے جو حکومت اپنے قیمتی سرمائے یعنی ملک کے بچوں پر کرسکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا تھاکہ ملک کی ترقی کے ان کے خواب کی تعبیر کی کنجی تعلیم ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جون 2013میں جو معاشی...
March 24, 2017
قرضوں میں لپٹی معیشت کا نعرہ خود انحصاری

گزشتہ کئی دہائیوں سے خود انحصاری کے زریں اصول پر مبنی دانشمندانہ معاشی پالیسیاں اپنا کر جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی وصولی، قومی بچتوں اور مجموعی سرمایہ کاری کی شرحیں بڑھانے کے بجائے مختلف حکومتیں داخلی و بیرونی قرضوں، بیرونی امداد، قومی اثاثوں کی نج کاری اور گزشتہ 15برسوں میں بیرونی ممالک سے آنے والی ترسیلات پر انحصار بڑھاتی...
March 09, 2017
اسلامی بینکاری۔علمائے کرام سے دردمندانہ گزارشات

یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ پاکستان کے بااثر مال دار اور فیصلہ ساز طبقے نہیں چاہتے کہ پاکستان میں اسلامی نظام معیشت و بینکاری شریعت کی روح کے مطابق نافذ ہو اور معیشت سے سود کا خاتمہ ہو کیونکہ اس سے ان کے ناجائز مفادات پر کاری ضرب پڑے گی مگر ملک کے کروڑوں افراد کی قسمت بہرحال بدل جائے گی۔ ربٰوا (سود) کا مقدمہ گزشتہ 25برسوں سے زیر...
February 23, 2017
خوش فہمیاں اور خود فریبیاں

وزیر خزانہ اسحق ڈار نے معیشت کے شعبے میں کامیابیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے پرائس واٹر ہائوس کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ قیمت خرید کی مسابقت یعنی جی ڈی پی، پی پی پی کے لحاظ سے 2030تک پاکستان دنیا کی 20ویں اور 2050تک 16ویں بڑی معیشت بن جائے گا۔ ہم پوری ذمہ داری سے یہ عرض کرنا چاہتے ہیںکہ یہ کوئی کامیابی نہیں ہوگی۔ آبادی کے...
February 09, 2017
انسداد کرپشن اور احتساب۔ کیا ہم سنجیدہ ہیں؟

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی 2016کی رپورٹ جاری ہونے کے بعد ہمارے حکمراں فخریہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے کرپشن انڈیکس میں 9درجے بہتری آئی ہے، پاکستان کرپٹ ترین ممالک کی فہرست سے نکل کر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہوگیا ہے اور جنوبی ایشیا میں پاکستان واحد ملک ہے جو کرپشن کے خلاف اقدامات میں بہتری لایاہے۔ یہ دعوے غیرحقیقت پسندانہ اور...
January 26, 2017
نئے عزائم سلامت مگر حکمت عملی…؟

اسلامی جمہوریہ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے مگر معیشت کے حجم کے لحاظ سے پاکستان کا نمبر 41واں ہے۔ گزشتہ 35 برسوں میں پاکستان کی معیشت کی اوسط شرح نمو صرف 4.7 فیصد رہی جو کہ خطے کے اہم ملکوں کے مقابلے میں کم ہے کیونکہ اسی مدت میں بھارت کی شرح نمو 6.4 فیصد سری لنکا 5.5 فیصد اور بنگلہ دیش 5فیصد رہی۔ وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے...
January 12, 2017
سی پیک۔گیم چینجر یا فیٹ چینجر؟

پاک چین اقتصادی راہدی (سی پیک) یقیناً ایک عظیم الشان منصوبہ ہے، اس منصوبے کے تحت چین کی سرمایہ کاری سے پاکستان کا انفرااسٹرکچر بہتر ہوگا، توانائی کی قلت پر قابو پایا جاسکےگا، بجلی کی ترسیل اور پاکستان ریلوے کا نظام بہتر ہوگا، گوادر پورٹ کی ترقی ہوگی اور ملک میں متعدد صنعتی پارک قائم ہوں گے، ان عوامل کی وجہ سے حکومت، ملکی صنعتکاروں...