Masood Ashar - Urdu Columns Pakistan | Jang Columns
| |
Home Page
اتوار یکم رمضان المبارک 1438ھ 28 مئی 2017ء
مسعود اشر
آئینہ
May 23, 2017
طیراً ابا بیل اور اصحاب ِفیل

مجھے پچھلے دو دن سے قرآن مجید کی سورۃ’’الفیل‘‘ بہت یاد آرہی ہے۔ اور یاد آرہی ہیں ابابیلیں، جنہوں نے کعبہ پر حملہ کرنے والے اصحاب فیل (ہاتھی والوں) پر کنکریاں برسا کر انہیں جانوروں کا کھایا ہوا بھوسہ بنا دیا تھا۔ اس طرح ہمارے لئے طیراً ابابیل (پرندے) مزاحمت اور مدافعت کی علامت بن گئے ہیں۔ جب ایوب خاں کی آمریت اپنے عروج پر تھی...
May 16, 2017
یہ مدرڈے اور فادر ڈے

ذرا آپ ہی بتایئے جب ہم مدر ڈے اور فادر ڈے نہیں مناتے تھے تو کیا ہم اپنے ماں باپ سے محبت نہیں کرتے تھے؟ کیا جب سے اقوام متحدہ نے یہ دن منانے کی ہدایت کی ہے اس کے بعد ہی ہمیں اپنی اماں اور اپنے ابا یاد آنا شروع ہوئے ہیں؟ یہ سوال میں مغربی معاشرے سے نہیں کر رہا ہوں، اپنے معاشرے سے کر رہا ہوں۔ ناخلف اور ناہنجار بیٹے اور بیٹیاں پہلے بھی...
May 10, 2017
دوسروں کی دخل اندازی

ایک صاحب بس میں کہیں جا رہے تھے۔ ان کے ساتھ ایک نوعمر لڑکا بیٹھا تھا۔ لڑکا چاکلیٹ پر چاکلیٹ کھائے جا رہا تھا۔ ایک کھائی، دوسرا کھائی، تیسرا کھائی۔ جب وہ چوتھی چاکلیٹ کھانے لگا تو ان صاحب نے لڑکے سے کہا ’’زیادہ چاکلیٹ کھانے سے دانت خراب ہو جاتے ہیں‘‘۔ لڑکے نے ان کی طرف دیکھا اور بولا ’’میرے دادا کا انتقال ایک سو بیس سال کی عمر میں...
May 02, 2017
اندر کی خبر

ہم نے پاکستان میں پہلا مارشل لا1953میں دیکھا تھا۔ احمدیوں کے خلاف تحریک نے زور پکڑا اور ہنگامے شروع ہوئے تو مارشل لا لگا دیا گیا۔ یہ مارشل لا صرف لاہور میں لگایا گیا تھا۔ اس مارشل لا میں روزنامہ ’’زمیندار‘‘ پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اس کا پریس بند کر دیا گیا تھا اور اس کے ایڈیٹر مولانا اختر علی خاں (مولانا ظفر علی خاں کے صاحب زادے)...
April 25, 2017
پاناما سے کتاب کے تیو ہار تک

پروفیسر امین مغل لندن میں رہتے ہیں۔ لیکن بھلا ہو فیس بک کا کہ وہ صبح سے رات تک پاکستان میں ہی نظر آتے ہیں۔ انہوں نے میرے ایک تبصرے پر لکھا ’’اور بھی غم ہیں زمانے میں پاناما کے سوا‘‘۔ مگر ہمارے افسانہ نگار، نقاد استاد اور ادبی رسالے ’’دنیا زاد‘‘ کے ایڈیٹر آصف فرخی کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر بالزیک کا ناول ’’بڈھا گوریو‘‘ یاد...
April 18, 2017
اس جرم میں ہم سب ذمہ دار ہیں

مان لیجئے کہ اس بہیمیت اور وحشیانہ حرکت اور اس جرم اور اس گناہ کے ہم سب ذمہ دار ہیں۔ ہم، ہمارے معاشرے کے نام نہاد سوچنے سمجھنے والے، ہمارا عام آدمی، ہمارا میڈیا، ہماری حکومت اور قانون و انصاف مہیا کرنے والے تمام ادارے۔ ان عناصر کو ہم نے ہی تو پروان چڑھایا ہے۔ ہم نے ہی تو انہیں موقع دیا ہے کہ وہ قانون، اخلاق اور انسانیت کو جب چاہیں...
April 11, 2017
وہی ہوا جو ہم نے کہاتھااور مردم شماری

وہی ہوا جو ہم نے کہا تھا۔ ایک ہفتے میں ہی ہم اس شخص کو بھول گئے جس نے نہایت ہی وحشیانہ انداز میں ڈنڈے اور لاٹھیاں مار مار کر بیس انسان ہلاک اور کئی زخمی کر دیے تھے۔ ایک تو مردم شماری کرنے والی ٹیم پر حملہ ہو گیا اس لئے ایک دو دن کے لئے ہماری توجہ ادھر بھی مبذول ہو گئی۔ ویسے تو یہ بھی ہمارے لئے معمول ہی بن گیا ہے۔ لیکن ہمارے روزمرہ کے...
April 04, 2017
کیا ہم سب نفسیاتی مریض ہو گئے ہیں ؟

اب تو ایسا لگتا ہے جیسے یہ ہمارے لئے معمول کی بات ہو گئی ہے۔ اتنے آدمی فلاں حادثے میں مارے گئے اور اتنے آدمی فلاں شخص نے مار ڈالے۔ ہم ٹی وی پر خبر سنتے ہیں، اخبار میں یہ خبر پڑھتے ہیں۔ تھوڑی دیر افسوس کرتے ہیں اور پھر اپنے اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں۔ اور اس وقت تک ہم فراموشی کے عالم میں رہتے ہیں جب تک ایسا ہی کوئی اور سانحہ نہیں ہو...
March 28, 2017
حسین حقانی کو سزا دو

یہ جو حسین حقانی ہے نا، اسے پھلجھڑیاں چھوڑنے میں بہت مزہ آتا ہے، وہ بیٹھے بٹھائے ایک پھلجھڑی چھوڑ دیتا ہے اور پھر دور بیٹھ کر تماشا دیکھتا ہے، بھلا کیا ضرورت تھی اسے وہ مضمون لکھنے کی جس نے خدا جانے کس کس کی نیندیں اڑا دی ہیں، اب وہ کہتا ہے کہ ’’میں نے اس مضمون میں کوئی نئی بات نہیں کی ہے، وہی لکھا ہے جو سب جانتے ہیں۔‘‘ حالانکہ وہ...
March 21, 2017
خوف سے آزادی اور فہمیدہ ریاض کا ناول

ہم خوف کے حصار میں ہیں۔ ’’خوف سے آزادی حاصل کئے بغیر اظہار رائے، مذہب، عقیدے، تحقیق و جستجو اور سوال کرنے کی آزادی محض ایک کلیشے ہے‘‘۔ یہ لکھا ہے فرح ضیا نے اپنے انگریزی مضمون میں۔ یہ مضمون 23 مارچ کو آنے والے یوم آزادی کے حوالے سے لکھا گیا ہے۔ سچ ہے، اب تک یہ خوف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں اور شدت پسند جماعتوں اور انتہا پسند...
March 14, 2017
ریلو کٹا اور حلقہ ارباب ذوق

اب تو یہ جھگڑا پرانا ہو گیا۔ اور اب تک اس پر اتنی باتیں ہو گئی ہیں کہ مزید کچھ کہنے کی گنجائش ہی نظر نہیں آتی۔ لیکن ایک بات ایسی ہے جسے سمجھنے کی ضرورت باقی رہ گئی ہے۔ ہم سب جان گئے ہیں کہ پھٹیچر کسے کہتے ہیں۔ عمران خاں نے اس کی وضاحت بھی کر دی ہے۔ اور عمران خاں نے ہی ہمیں یہ بھی بتا دیا ہے کہ کرکٹ کی اصطلاح میں ’’ریلو کٹا‘‘ اس نکمے...
March 07, 2017
دروازہ کھل گیا

لیجیے، سپر لیگ کا فائنل بھی ہو گیا۔ اور خوب زور شور سے ہوا۔ اگرچہ اس کے لئے جنگی بنیادوں پر احتیاطی اور حفاظتی انتظام کئے گئے تھے، لیکن میچ ہوا۔ اور ایسا میچ ہوا کہ کھیل تو لاہور میں ہو رہا تھا، مگر پورا ملک اس میں شریک تھا۔ پاکستان کا کوئی بھی شہر یا قصبہ ایسا نہیں تھا جہاں یہ میچ دیکھنے کے لئے بڑی بڑی اسکرینیں نہ لگائی گئی ہوں۔...
February 28, 2017
کیا ہم پاکستان کا روشن چہرہ دکھانا نہیں چاہتے؟

ہر سال ایک ہی بات دہرانا اچھا نہیں لگتا۔ لیکن کیا کیا جائے، دل دکھتا ہے تو کچھ نہ کچھ کہنا ہی پڑتا ہے۔ بھلا بتائیے، ادب کا جشن کراچی میں منایا جا سکتا ہے، اسلام آباد اور فیصل آباد میں منایا جا سکتا ہے، اگر نہیں منایا جا سکتا تو لاہور میں۔ کیوں؟ یہاں سیکورٹی کا مسئلہ ہے۔ چلئے، اس بار تو مال روڈ اور ڈیفنس کے دھماکوں کے بعد کچھ خطرے...
February 21, 2017
ایک انجانی بزرگ شخصیت اور جشن ادب

سامنے اسٹیج پر وہ پانچ شخصیتیں بیٹھی ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں، لیکن یہ چھٹی شخصیت کون ہے؟ نہایت ہی سادہ کپڑ ے پہنے، چھڑی پر دونوں ہاتھ جمائے، اور گردن جھکائے یہ بزرگ خاتون ایسے بیٹھی ہیں جیسے انہیں زبردستی وہاں بٹھا لیا گیا ہو۔ ہم ڈاکٹر اشتیاق احمد کو جانتے ہیں۔ مشہور مورخ اور سیاسی مبصر ہیں، ہم کشور ناہید کو جانتے ہیں جنہیں کسی...