Wajahat Masood - Urdu Columns Pakistan | Jang Columns
| |
Home Page
ہفتہ 27 شوال المکرم 1438ھ 22 جولائی 2017ء
وجا ہت مسعود
تیشہ نظر
July 19, 2017
نواز حکومت اور میثاقِ جمہوریت کا وقت ابھی ختم نہیں ہوا

معروف ماہر معیشت غلام کبریا نے2001میں ایک دلچسپ ، مدلل اور چشم کشا کتاب لکھی۔ اصل کتاب انگریزی میں تھی ( Pre-Independence Indian Muslim Mindset) حسن عابدی نے ترجمہ کیا، ’’آزادی سے پہلے مسلمانان ہند کا ذہنی رویہ‘‘۔ بحث کو فکری تناظر دینے کے لیے اس کتاب کے بنیادی نکات عرض ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو صدیوں سے یہ غلط فہمی تھی کہ وہ حکومت کرنے کے لیے...
July 15, 2017
میگھ دوت کے موسم میں پھانسی گھاٹ کا میلہ

شریمتی گرجا دیوی 1929میں گنگا کے کنارے بنارس میں پیدا ہوئیں۔ کلا کی سہائتا میں سات دہائیاں بیت گئیں۔ بنارس گھرانے کی ٹھمری کو اپنا مقام دلانے میں گرجا دیوی نے وہی کام دکھایا جو استاد بسم اللہ خان مرحوم نے شہنائی کی سیوا میں کیا۔ یہ فنکار بنارس کے رتن تھے۔ وہی بنارس جسے آزادی کے نام پر ملنے والی زورآوری کی دھونس میں اب واراناسی...
July 13, 2017
تنویر جہاں کی شجر کاری اور سائیں مرنا کی سوز خوانی

تنویر جہاں کو مزے مزے کی باتیں سوجھتی ہیں۔ کل ملا کے 15 x 20 فٹ کا ایک باغیچہ سا بنا لیا ہے۔ لان کہنا تو اسے زیب نہیں دیتا۔ درویش عمر بھر مٹی کے گملوں میں زیر زمین خوابوں کو پانی دیتا آیا ہے۔ اب جو موقع ملا تو اس تنک سے قطعہ ارضی پر انجیر، انار، شریفہ، آواکاڈو، لیموں، لیچی اور چکوترے کے کچھ پودے گاڑ دیئے، انگور کی بیل چاروں طرف چڑھا...
July 11, 2017
منٹو، گیلیلیو اور نواز شریف کی پاک بھارت پالیسی

انسان بھی عجب ڈھنگ کی مخلوق ہے۔ سو طرح سے رفو گری کرو مگر چاک داماں سے کچھ دھاگے نکل ہی آتے ہیں۔ اب دیکھیے نا، انسان کی ایک بلیغ مگر ناقابل اشاعت تعریف منٹو نے اپنے افسانے ٹھنڈا گوشت میں کی تھی۔ منٹو آزادہ رو ادیب تھے۔ صحافت منٹو کی صاف گوئی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ میکسم گورکی نے ایک بالکل دوسرے زاویے سے انسان کی تعریف کی تھی۔...
July 08, 2017
دیوتا سسی فس کی سزا تبدیل کی جائے

یونان کی اساطیر میں ایک دیوتا سسی فس کا ذکر ملتا ہے۔ مقتدر دیوتاؤں کو خدشہ تھا کہ سسی فس ذہین بھی ہے اور اس کے عزائم بھی بلند ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ کسی روز دیوتاؤں کی دھرتی میں طاقت کا توازن ہی بدل جائے۔ اونچے ٹیلے ہموار کر دیئے جائیں، گہری کھائیوں کو پاٹ دیا جائے۔ میٹھے دریاؤں کا ٹھنڈا پانی ان بنجر منطقوں تک جا پہنچے جو نامعلوم...
July 06, 2017
کیا بھٹو نے نواب محمد احمد خان کو قتل کیا تھا؟

کل 5جولائی تھی۔ اس روز پاکستان کے متفقہ دستور کو معطل کر کے پہلے منتخب وزیر اعظم کو معزول کر دیا گیا تھا۔ ریاستی موقف یہ تھا کہ افواج پاکستان کو حکومت اور حزب اختلاف میں خانہ جنگی کے اندیشوں کے پیش نظر مداخلت کرنا پڑی۔ سیاسی قیادت کے متعدد عینی گواہان پروفیسر عبدالغفور، کوثر نیازی اور نوابزادہ نصراللہ کے دستاویزی بیانات موجود ہیں...
July 04, 2017
جنگ آزادی کے بارے میں کچھ خیالات

قصباتی بچوں کی دنیا بہت مختصر سی ہوتی ہے لیکن اس کے رنگ بہت گہرے ہوتے ہیں۔ کتاب کی دنیا کا ابتدائی ہیولہ پرائمری اسکول میں رکھی ایک الماری سے وابستہ ہے جس تک رسائی بہت مشکل تھی۔ اس میں ایک کتاب برف پوش سائبیریا میں رہنے والے اسکیمو بچوں کے بارے میں تھی۔ سعید لخت کی کہانیوں کا ایک مجموعہ تھا۔ زبان ایسی سادہ کہ آج بھی آنکھیں بند کر...
July 01, 2017
قرطبہ کا قاضی اور جمہوریت کا سوال

ہمارا المیہ کیا ہے؟ ہماری ہڈیوں میں قرطبہ کا قاضی اتر چکا ہے۔ ’قرطبہ کا قاضی‘ امتیاز علی تاج کا ایک کمزور سا یک بابی ڈرامہ تھا جو عشروں تک ہمارے تعلیمی نصاب کا حصہ رہا۔ اس تمثیل میں قرطبہ (اندلس) کے مسلمان حکمران عبدالرحمن الثالث کی زندگی کا ایک واقعہ بیان کیا گیا تھا۔ امتیاز علی تاج نے لکھا کہ عبدالرحمن نے اپنے سگے بیٹے عبداللہ...
June 29, 2017
فرد جرم نامکمل ہے…

برادر عزیز کم عمر ہیں۔ انہیں وبا، قحط، جنگ اور آئین میں تعطل کا کم ہی تجربہ ہے۔ دعا ہے کہ برادر عزیز کو مدت العمر ان آلام سے واسطہ نہ پڑے۔ چھوٹے بچوں کے سے جوش و خروش میں عزیزم نے نہ صرف یہ کہ وزیر اعظم کے جرائم کی فہرست گنوا دی ہے بلکہ بزعم خود ان کے جرائم کی درجہ بندی کرتے ہوئے ام الجرائم کی نشاندہی بھی کر دی ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ...
June 24, 2017
آپا نور الہدیٰ، بھائی محمود الحسن اور مایوس فلسفی

رات آدھی سے زیادہ نکل چکی تھی۔ مجھے خوف تھا کہ خالی سڑکوں پر موٹر سائیکل لہراتا کوئی جنونی نوجوان حادثہ نہ کر دے۔ شیر خان نے دو گھنٹے سرخی پاؤڈر اور لپ اسٹک لگی اداکاراؤں کی قربت میں گزار لئے تھے۔ اس کے تھرما میٹر کا پارہ بلند تھا۔ کہنے لگا۔ آپ آرام سے بیٹھیں۔ آپ کو ڈر کس بات کا ہے؟ میں اسے سمجھا نہیں سکتا تھا کہ جو لوگ خوشی کا...
June 22, 2017
محتسب اعلیٰ سے بھی اعلیٰ

ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے ابتدائی ایام تھے۔ بھٹو صاحب کا کارنامہ یہ تھا کہ وہ ایک شکست خوردہ قوم کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو گئے کہ ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لئے وہ بہت چھوٹے چھوٹے اور بامعنی اشارے بروئے کار لاتے تھے۔ صدر بھٹو پاک سیکرٹریٹ کے دورے پر گئے۔ وہاں ہر افسر کے نام کی تختی پر یہ نشاندہی بھی...
June 20, 2017
تالاب سلامت۔مگر پانی گدلا ہو گا

ابتلا کا یہ موسم کچھ زیادہ طویل ہو گیا۔ تین عشرے ہونے کو آئے، ہماری مشکل آسان نہیں ہوتی۔ 1988 کا برس تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے منظر سے ہٹنے کے بعد امید پیدا ہوئی تھی کہ اب جمہوریت کا سفر ہموار ہو سکے گا۔ جلد ہی ہمیں مطلع کیا گیا کہ انتقال اقتدار کا کوئی ارادہ نہیں، البتہ شراکت اقتدار پر غور کیا جا سکتا ہے۔ یہ امتحان ضیاءالحق کی آمریت...
June 17, 2017
احتساب کا خبط اور تاریخ کا دریا

فروری 1979ء میں ایرانی انقلاب کے سربراہ آیت اللہ خمینی نے ملا صادق خالخلی کو حاکم شرع یعنی شرعی انقلابی عدالتوں کا سربراہ مقرر کر دیا۔ گول مٹول خدو خال رکھنے والا 32 سالہ صادق خالخلی مذہبی احتساب کی صدیوں پرانی روایات کا جدید نمونہ ثابت ہوا۔ اسے سزائے موت سنانے کا شوق تھا۔ کبھی کبھار تو وہ یہ نیک کام اپنے ہاتھوں سے سرانجام دینے کے...
June 15, 2017
مسلم قدامت پسندی

تصویر کے چند چھوٹے چھوٹے ٹکڑے دیکھ لیتے ہیں۔ انہیں محض اشارات سمجھنا چاہیے تاکہ ان کی مدد سے ایک بڑی تصویر کے خدوخال پہچاننے کی کوشش کی جائے۔ ایک خبر تو یہ ہے کہ ہمارے ممدوح چوہدری نثار علی خان صاحب نے فرمایا ہے کہ کوئٹہ میں مارے جانے والے دو چینی باشندے کاروبار کی آڑ میں تبلیغ کر رہے تھے۔ آئین کی شق 20 میں مذہبی آزادی کی ضمانت دی...