Wajahat Masood - Urdu Columns Pakistan | Jang Columns
| |
Home Page
اتوار یکم رمضان المبارک 1438ھ 28 مئی 2017ء
وجا ہت مسعود
تیشہ نظر
May 28, 2017
اصغر علی گھرال:کتاب، مقدمہ اور وکیل میں سے کسے موت آئی؟

گجرات کی مٹی بہت زرخیز ہے۔ یہاں کے محبت کرنے والے بھی داستان ہیں، یہاں کے لڑنے والوں کی بہادری بھی ایک روایت ہے۔ ایک خرابی اس مٹی میں بہت پرانی چلی آتی ہے۔ یہاں کے گھڑے اکثر بیچ دریا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ عین یہاں کی زمیں کی طرح کہ وقفے وقفے سے منہ کھولتی ہے اور ہمارے لعل و گہر زیر خاک پردہ کر جاتے ہیں۔ چناب کے گھاٹ پر برہ کی کوک ایک...
May 25, 2017
ہمیں اپنے گھر کی فکر کرنی چاہئے

دہشت گرد مخالف اسلامی اتحاد تو محض کاٹھ کی ہنڈیا ثابت ہوا۔ نہ اس کا کوئی انتظامی ڈھانچہ مرتب ہو سکا اور نہ اس میں شریک ممالک کی ذمہ داریوں اور اختیارات کا تعین ہو سکا۔ اگر یہ دفاعی اتحاد ہے تو اس کے عسکری زاویے بیان نہیں کیے گئے ۔ اگر یہ مسلم اکثریتی ممالک کا اجتماع تھا تو اس میں چین، روس جیسی عالمی طاقتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے...
May 23, 2017
نئی عالمی صف بندیاں اور پاکستانی ترجیحات

اسلامی دفاعی اتحاد کے نام پر مسلم اکثریتی ممالک کے رہنمائوں کا اجلاس دراصل سعودی عرب اور امریکہ میں تعلقات کے ایک نئے دور کو کچھ تقریباتی رنگ و بو بخشنے کی کوشش تھی۔ قابل توجہ واقعات صرف تین تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور شاہ سلمان نے 350ارب ڈالر کے تجارتی معاہدوں پر دستخط کئے ۔ اس میں امریکہ سعودی عرب کو ایک سو دس ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرے...
May 20, 2017
کوا اندھیری رات میں شب بھر اڑا کیا

ہم اہل پنجاب کا شین قاف درست نہیں ہوتا۔ حروف پر مبنی زبانوں میں اصوات کا اختلاف پایا جاتا ہے۔ بچہ والدین اور ارد گرد کے افراد سے خود بخود آوازیں سیکھ لیتا ہے۔ متعلقہ منطقے میں جو آوازیں موجود نہیں ہوتیں ، ان کی تحصیل کار دارد ہوتی ہیں۔ یہ سامنے کی بات تھی جسے عرب و عجم کا جھگڑا بنا دیا گیا۔ دلی اور لکھنؤ کے دبستان وجود میں آئے۔...
May 18, 2017
مرشد ملے، مراد ملی، نقش پا ملا

امید کی محل سرا کھڑی کرنا اور پھر اس پر پورے بحیرہ عرب کا پانی پھیرنا کوئی یاسر پیرزادہ سے سیکھے۔ آج مورخہ سترہ مئی سنہ 2017عیسوی بروز بدھ کی خوشگوار صبح نیم مندی آنکھوں سے اخبار اٹھایا۔ حسب معمول ادارتی صفحہ پلٹا اور یاسر کا کالم پڑھنا شروع کیا۔ ایسا اشتیاق افزا عنوان باندھا تھا کہ واللہ ننداسی آنکھوں میں چراغ جل اٹھے۔ ’موبائل...
May 16, 2017
یہ مقدمہ سوشل میڈیا کا نہیں، بالادست بیانیے کا سوال ہے

رواں برس کے ابتدائی ہفتوں سے ہم نے سوشل میڈیا کی صورت میں ایک نیا دشمن دریافت کیا ہے۔ بات کچھ زیادہ دور کی نہیں۔ 2016ء کا برس ایک خاص کشمکش میں گزرا۔ اخبارات میں کالم لکھے گئے۔ کھمبوں پر بینر لٹکائے گئے۔ ٹیلی وژن کی شبینہ مجالس میں متابعین کو ابرو کا اشارہ ملا۔ معاملہ اس قدر عام ہو گیا کہ ایک آدھ پیغام اس درویش تک بھی پہنچ گیا۔ اگلے...
May 13, 2017
یہ دھمکی ابصار عالم کو نہیں دی گئی

پرانے زمانے کے ایک شہر نامعلوم میں ایک بادشاہ حکمران تھا۔ ہمارا، تمہارا خدا بادشاہ۔ اب تو پاکستان کے دستور کی شق دو الف بھی یہی کہتی ہے کہ ہمارا، تمہارا خدا بادشاہ۔ مشکل یہ ہے کہ تاریخ کچھ اور بتاتی ہے۔ فیض صاحب نے کیسا قطرے میں دجلہ سمو دیا۔ ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے، بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا۔ حاکمیت عوام کی...
May 09, 2017
گورنر سندھ بھی لبرل ہو گئے

قصباتی تعلیم تھی۔ انگریزی کا ایک پہاڑ تھا۔ زندگی میں ڈبل روٹی کھا کر پھول جانے کے لئے یہ پہاڑسر کرنا ضروری تھا۔ جس خوش نصیب کو انگریزی کا مشفق استاد میسر آ جاتا، وہ اسم اعظم کا کلید بردار ٹھہرتا۔ مقابلے کے امتحان میں بیٹھتا، گھوڑے پر سواری سیکھتا اور پھر عمر بھر ہم افتادگان خاک پر سواری کرتا۔ درویش پر قسمت مہربان تھی۔ غلام مصطفیٰ...
May 06, 2017
قائد اعظم سے دھونس اور اشتعال کی ثقافت تک

لیو ٹالسٹائی نے اینا کیری نینا کے پہلے پیراگراف میں لکھا تھا ۔ ’سب سکھی گھرانے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ہر دکھی گھرانے کی اپنی اپنی کہانی ہوتی ہے‘۔ واقعی دکھ کے ہزار پہلو ہوتے ہیں۔ ہم پر دہشت گردی کا عذاب اترا اور یہ آسیب ابھی دور نہیں ہوا۔ چار برس پہلے ہم نے ایک حکومت منتخب کی تھی ۔ ایک دن ایسا نہیں گزرا کہ معمول کا کاروبار مملکت ممکن...
May 03, 2017
محصور شہر سے لکھی احتجاجی عرض داشت

یہ عجیب محاصرہ ہے۔ فصیل سے باہر کوئی نہیں ہے۔ سب فریق شہر پناہ کے اندر مقیم ہیں۔ اہل شہر خوف کی پناہ گاہوں میں سر چھپائے بیٹھے ہیں۔ قبرستانوں کو جانے والے راستوں پر گھاس کیا اگتی، دھول تک بیٹھنے نہیں پاتی۔ گلی میں کسی کے قدموں کی چاپ نہیں۔ ہاٹ بازار سب کھلے ہیں، مٹھائی کی دکانوں، اخبار کے دفتر اور ٹیلی وژن کی اسکرین پر حسب معمول...
April 29, 2017
قندھاری انار، لعل بدخشاں اور احسان اللہ کا احسان

منٹو نے آغا حشر سے ایک ملاقات کا احوال مزے لے لے کر لکھا۔ آغا حشر حسب معمول دون کی لے رہے تھے ۔ہندوستان کے مشاہیر ادیبوں کوخطیبانہ آہنگ میں لتاڑ رہے تھے۔ کلکتہ اور بمبئی کے سیٹھوں کی ہشت پشت بیان کر رہے تھے۔ بیچ بیچ میں رک کر پوچھتے تھے کہ مختار بیگم کیوں نہیں آئیں اور یہ کہ جس ملازم کو قندھاری انار لینے بھیجا تھا، وہ کہاں رہ...
April 26, 2017
مرید پور کا پیر اور بیلی پور کا اختلافی نوٹ

’پطرس کے مضامین‘ 1930 ء میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب جدید اردو مزاح کی بائبل سمجھی جاتی ہے۔ کیمبرج سے انگریزی ادب کی تعلیم پانے والے احمد شاہ بخاری نے جدید مغربی ادب کے اثرات کو ہمعصر ہندوستان میں کچھ ایسے سمویا کہ اردو پڑھنے والوں کی کایا کلپ ہو گئی۔ پطرس کے مضامین میں ’مریدپور کا پیر ‘غالباً واحد تحریر ہے جس میں سیاسی تبصرے کی جھلک...
April 22, 2017
ہجوم کی دیوانگی اور احتسابی انصاف کا فریق حقیقی

حضرت یسوع مسیح کو مصلوب کر دیا گیا(عیسائی عقیدے کے مطابق)۔ انسانوں سے شفقت اور محبت کا درس دینے والے کو اذیت ناک موت دی گئی۔ سزا کا حکم سنانے والے حاکم سے بہت برس بعد اس واقعہ کے بارے میں دریافت کیا گیا۔ بوڑھے شخص نے یادداشت پر زور ڈالتے ہوئے کہا کہ مجھے اس طرح کا کوئی واقعہ یاد نہیں۔ سزا کا اختیار رکھنے والا اپنے قلم کی جنبش بھول چکا...
April 18, 2017
فحاشی کی مخالفت کیسے کی جائے ؟

گزشتہ ہفتے برادرم یاسر پیرزادہ نے ’شک کی بنیاد پر مجرم ‘ کے عنوان سے ایک کالم لکھا۔ اس کالم میں یاسر پیرزادہ نے میکارتھی ازم کا ذکربھی کیا۔ معاملہ یہ تھا کہ دوسری عالمی جنگ میں اٹلی کا فسطائی مسولینی ، جرمنی کا نازی ہٹلر اور جاپان کا جنگجو ٹوجو شکست کھا گئے تھے۔ دوسری طرف ایک نو آبادیاتی طاقت کے طور پر برطانیہ کا دم خم ختم ہو گیا...